الجواب وباللہ التوفیق:-وقف شدہ زمین کو بدلنا جائز نہیں ہے ہاں البتہ جب موقولہ زمین سے فائدہ اٹھانا ممکن نہ ہو تو قاضی کے حکم سے اس کا تبادلہ جائز اور درست ہے لہذا صورت مسئولہ میں ضرورت شدید کی وجہ سے وقف زمین کا تبادلہ جائز اور درست ہے-(نوازل:١٧٠/١٣،كفاية المفتي:٦٢/٧)
📖 📖 والثاني أن لا بشرطه عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكية بأن لا يحصل منه شيء أصلاً ولا يفي يمؤنته فهو أيضاً جائز وعلى الاصح إذا كان باذن القاضي (شامي:٥٨٢/٦،زكريا ديوبند)
📖 📖 ونقل في الذخيرة عن شمس الائمة الحلواني أنه سئل عن مسجد أو حوض خرب ولا يحتاج إليه لتفرق الناس عنه هل القاضي أن يصرف أو فاقه إلى مسجد أو حوض آخر ؟ فقال: نعم: ومثله في البحر (شامي:٥٥٠/٦،زكريا ديوبند)
📖 📖 وكذلك ساتر الوقوف عنده إلا أنها إذا خرجت عند انتقا الموقوف عليهم به جاز استدالها باذن الحاكم بارض او ذور آخرى تكون وقفا مكانها (اعلاء السنن:١١٢/١٣،كراچی)
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟