الجواب:-اگر آدمی مسافت سفر سیاستر کلومیٹر کے ارادے سے گھر سے نکلے تو جب گاؤں یا شہر کی فنا سے نکل جائے گا تو وہ شخص شرعا مسافر شمار ہوگا اور چار رکعت والی نمازوں میں قصر یعنی دو رکعت پڑھے گا اور مسافر ہونے کے لیے نیت ضروری ہے کہیں پر بھی البتہ ضروری ہے کہ نماز سے پہلے ہو-
📖 من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدًا ...، مع قوله: خرج؛ إذ إنه لو خرج ولم يقصد، أو قصد ولم يخرج، لا يكون مسافرًا... مسيرة ثلاثة أيام ولياليها... (رد المحتار مع الدر المختار، 2/599–601، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 فصل: وأمّا بيانُ ما يصير به المقيمُ مسافرًا، فالذي يصير المقيمُ به مسافرًا نيةُ مدةِ السفر... قال أصحابنا: مسيرُ ثلاثةِ أيامٍ...(بدائع الصنائع، 1/261، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 السفرُ الذي تتغيَّر به الأحكامُ: أن يقصدَ مسيرةَ ثلاثةِ أيامٍ ولياليها... إن يقصد، إنما قُيِّد بالقصد؛ لأنه لو طاف جميعَ الدنيا من غير قصدِ السفر لا يصير سفرًا، فالقصدُ وحده غيرُ معتبر، وكذا الفعل...(الهداية، 1/173، كتاب الصلاة، زمزم، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- پرانے اور پھٹے نوٹ کم قیمت پر بیچنا یا بدلنا جائز ہے یا نہیں
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم