: الجواب بعون الوھاب
سجدہ تلاوت درست ہونے کے لئے ان تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے جو نماز کے درست ہونے کے لۓ ضروری ہیں سواۓ تحریمہ کو چھوڑ کر اس لۓ کہ سجدہ تلاوت کے اندر تحریمہ شرط نہیں ہے لھذا صورت مسؤلہ میں سجدہ تلاوت ادا کرنے کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا شرط ہے اگر کسی اور طرف رخ کرکے سجدہ ادا کیا تو ادا نہیں ہوگا
📖 وشرائط ھذہ السجدہ شرائط الصلاۃ الا التحریمہ ( فتاوی ھندیہ ۱/ ۱۳۵. کتاب الصلاۃ. مسائل سجدہ الشک ط. دار الفکر بیروت )
📖 واما شرائط الجواز فکل ما ھو شرط جواز الصلاۃ من طھارۃ الحدث وھی الوضوء والغسل وطھارۃ النجس وھی طھارۃ البدن والثوب ومکان السجود والقیام والقعود فھو شرط جواز السجدۃ لانھا جزء من اجزاء الصلاۃ فکانت معتبرۃ بسجدات الصلاۃ ( بدائع الصنائع. ۱/ ۱۸۶ ط. دار الکتب العلمیہ )
مزید متعلقہ سوالات
- عیدگاہ مسجد کا حکم رکھتی ہے یا نہیں اور بقر عید کی نماز کے بعد آٹھ دس مہینے تک خالی پڑی رہتی ہے اس دوران پیڑ پودے لگا کر فائدہ اٹھانا جائز ہے یا نہیں نیز اس میں حائضہ اور نفساء کا گزر جائز ہے یا نہیں؟ دلائل کے ساتھ جواب تحریر فرمائیں ؟
- کیا اس بات کا بھی کوئی جزئیہ اور روایت موجود ہے کہ جس میں یہ بات ہو کہ خارج میں قاری تلاوت کر رہا ہے اور سامعین کی ایک بڑی تعداد ہے اس کی تلاوت میں اور قاری صاحب نے ایک سجدہ کے آیات تلاوت کی اب سجدہ کرنا ہے تو کیا جماعت بنا کر سجدہ کرنا ثابت ہے یا نہیں؟ ثابت ہو تو روایت اور جزئیہ نقل کریں؟
- ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے دروزہ کے باہر دروزہ کنڈہ لگایا ہوا ہے باہر سے آکر کوئی کنڈہ بجانے لگا اس نمازی نے نماز کی حالت میں کنڈی کھولی اس کی وجہ سے نماز فاسد ہوگی یا نہیں؟
- امام صاحب نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی سجدہ بھی کر لیا خارجی آدمی نے آیت سجدہ کی قراءت امام صاحب سے سنی تو خارجی آدمی پر سجدہ کرنا واجب ہے یا نہیں؟
- اگر دوران نماز بجلی چلی گئی اور خارج نماز شخص نے کہا کہ تکبیر کہدی جیو تو تکبیر کہنے والے کی دو حالتیں کی گئی ہیں(1) اس نے ضرورت کی وجہ سے تکبیر کہنا شروع کیا تو نماز درست ہو جائے گی (2) اس نے خارجی آدمی کے کہنے سے تکبیر کہی ہے تو مکبر کی نماز فاسد ہو جائے گی تو کیا اس کی اتباع کر کے رکوع اور سجدہ کرنے والے افراد کی بھی نماز فاصد ہو جائے گی فرمائیں؟