الجواب:-کسی امام کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح ادا کرنا مسنون نہیں ہے پہلے کچھ اس میں اختلاف تھا مثلا امام مالک وغیرہ کے نزدیک چھتیس رکعتیں مسنون تھی لیکن بعد میں نماز ائمہ مجتہدین وغیرہ کا بیس رکعت پر اتفاق ہوا لہذا بیس رکعت ادا کرنے سے ہی سنت ادا ہو گئی ورنہ نہیں –
📖 وهي عشرون ركعة، وهو قول الجمهور، وعليه عمل الناس شرقًا وغربًا. (الدر المختار مع رد المحتار، 2/495، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 وهي عشرون ركعة بإجماع الصحابة رضي الله عنهم، بعشر تسليمات. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 414، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 وهي خمسُ ترويحات، كلُّ ترويحةٍ أربعُ ركعاتٍ بتسليمتين، كذا في ... ولو زاد خمسَ ترويحاتٍ بالجماعة يُكره عندنا. (الفتاوى الهندية، 1/175، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟
- صدقات کی اقسام، احکام اور مصارف کی تفصیل