الجواب و باللہ التوفیق:-جو عورتیں ہاف آستین کے لیے چمپر پہنتی ہے اور نماز کے لیے بڑا دینر دوپٹہ سر پر رکھ لیتی ہے جس سے اس کا کھلا ستر ڈھنک جاتا ہے تو ایسی صورت میں مذکور عورت کی نماز جائز اور درست ہو جائے گی لیکن اگر چمپر کے اوپر اتنا باریک کپڑا پہننا کے جس سے اندر کا بدن نظر آرہا ہے تو ایسی صورت میں نماز درست نہ ہوگی کیونکہ نماز میں ستر کا ڈھانپنا ضروری ہے (المستفاد: کتاب النوازل: ۴۱۲/۳)
📖 والثوب الرقيق الذي يصف ما تحته لا يجوز الصلاة فيه لانه لكشوف العورة معني(تبيين الحقائق: ٢٥٢/١-٢٥٣،زكريا)
📖 إذا كان الثوب رقيقا بحيث يصف ما تحته أي لون البشرة لا يحصل به ستر العورة إذ لا ستر مع رؤية لون البشرة(حلبي كبير قديم:٢١٤،اشرفي، عمدة القاري:٢٤٦/٢،زكريا)
📖 أما لو كان غليظا لا يرى فيه لون البشرة إلا انه التصق بالعوض وتشكل بشكله فصار شكل العوض سرينا فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر(هندية:-٢٦٨/٢)
مزید متعلقہ سوالات
- امام صاحب نماز پڑھ رہا تھا جب امام رکوع میں چلا گیا ایک شخص اسی حالت میں آکر کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہتے ہی تکبیر رکوع کہے بغیر رکوع میں چلا گیا تو اس کی تحریمہ صحیح ہوئی یا نہیں؟ اسے رکوع پانے والا کہا جائے گا یا نہیں؟
- ایک عورت کے ٣ مہینے کا حمل ہے تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے؟؟
- دھاتوں کے مجسمہ کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں اسی طرح تجارت میں جو پیسہ حاصل ہوا ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟
- دعاء قنوت کی جگہ التحیات پڑھ لیا پھر یاد آیا تو کیا دعاء قنوت لوٹائے گا یا نہیں؟
- ایک شخص نے جلسہ بین السجدتین میں التحیت پڑھ لیا پھر یاد ایا اور لوٹا لیا تو کیا اس کے اوپر سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟