ایک لڑکی کا نکاح ہو گیا تھا لیکن رخصتی ابھی باقی تھی یعنی خلوت نہیں ہوئی تھی۔ اسی دوران اس لڑکی کے کسی دوسرے لڑکے سے ناجائز تعلقات ہو گئے اور وہ حاملہ ہو گئ۔ گھر والے اس بات پر متفق ہوئے کہ اس کے شوہر سے طلاق لے کر اس کا نکاح اسی لڑکے سے کر دیا جائے جس سے حمل ہوا ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس لڑکی کا اپنے شوہر سے طلاق اور دوسرے لڑکے سے نکاح کی کیا صورت ہوگی ؟ آیا ابھی طلاق اور دوسرا نکاح ہو سکتا ہے یا وضع حمل کا انتظار کیا جائے گا اور بچے کے نسب کا کیا حکم ہوگا ؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب وباللہ التوفیق:
صورت مسئولہ میں اگر خلوت صحیحہ نہیں ہوئی ہے تو طلاق کے فوراً بعد دوسرا نکاح کرنا جائز ہے، اور دوسرے نکاح کے کم از کم چھے مہینہ کے بعد بچہ کی ولادت ہوتی ہے تو وہ ثابت النسب کہلاۓ گا
📖 يا ايها الذين آمنوا اذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونها (الآيه) (سورة الاحزاب آىت ٤٩)