الجواب:-فقہاء کرام نے تجھ کو جواب ہے کو الفاظ کنائی میں شمار کیا ہے اس کی دو سے دو صورت مسولہ میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی تجھ کو جواب ہے اور دو مرتبہ کہاں ہیں اس سے کوئی طلاق نہیں پڑے گی کیونکہ فقہ کا قاعدہ ہے البائن لا یلحق البائن لہذا اس سے ایک طلاق بائن ہی پڑے گی لیکن بعض علاقوں میں یہ لفظ صریح طلاق کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے تو اس کی دو سے صورت مسئولہ میں تین طلاق مغلظہ واقع ہوگی کیونکہ الفاظ صریح کو جتنی مرتبہ دہرائے گا اتنی ہی طلاق واقع ہوگی اور یہاں تین مرتبہ دہرایا ہے لہذا اس سے تین طلاق مغلظہ واقع ہوگی ….

📖 ولو قال: «أكثر الطلاق» أو «أنتِ طالقٌ مرارًا» لطلُقَ ثلاثًا، إن كان مدخولًا بها، فثلاثٌ هو المختار...(رد المحتار على الدر المختار، 4/504، كتاب الطلاق، مكتبة زكريا، ديوبند)

📖 وإذا قال لامرأته: أنتِ طالقٌ وطالقٌ وطالقٌ، ولم يعلِّقه بالشرط، فإن كانت مدخولًا بها طلقت ثلاثًا، وإن كانت غيرَ مدخولٍ بها طلقت واحدةً، ولا يقع عليها الطلاقُ الثاني والثالث؛ لأنَّها بانت بالأول...(الفتاوى الهندية، 1/423، كتاب الطلاق، مكتبة أشرفية، ديوبند)

📖 فإن سرَّحتكِ كتابةً، لكنَّه في عُرفِ الفُرسِ غلب استعمالُه في الصريح... مع أنَّ أصلَه كنايةٌ أيضًا...(رد المحتار على الدر المختار، 4/530، كتاب الطلاق، مكتبة زكريا، ديوبند)