الجواب وباللہ التوفیق:-اذان کے بعد نماز کی تیاری میں مشغول ہونا مستحب ہے لیکن جن علاقوں میں طویل فاصلہ ہوتا ہو اور ان کا کسی دینوی کام میں مشغول ہونے سے نماز فوت نہ ہوتی ہو اور نہ کوئی خلل واقع ہوتا ہو تو وہ عمل بلا کراہت جائز ہے-
📖 عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سكنت المؤذن بالاولى من صلوة الفجر قام فركع ركعتين حفيفتين قبل صلاة الفجر بعد ان يستيين الفجر ثم اضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه المؤذن للاقامة(بخاري شريف:٨٧/١،رقم: ٦١٨)
📖 عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بلال: يا بلال اذا اذنت فترسل في اذائك واذا اقمت فاحذر واجعل بين اذانك واقامتك قدرها بفرغ الا كل عن اكله والشارب من شربه الخ(ترمذي:٥٤/١،رقم: ١٩٥)
مزید متعلقہ سوالات
- سردی کے موسم میں لحاف وغیرہ ناپاک ہوجائے تو صرف تر کپڑے سے پوچھ دینے سے پاک ہوجائے گا ؟ واضح رہے کہ اگر دھل دیا جاۓ تو خشک ہونے میں وقت لگتا ھو؟
- اگر کوئی شخص سفر شرعی مقدار سے دور جگہ پر ملازمت کرے اور وہ کبھی ہفتہ میں یا کبھی مہینہ میں یا کبھی پندرہ دن پر گھر آ جائے تو ایسے شخص کا ملازمت کی جگہ شرعا کیا حکم ہے؟
- کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل ہو جاتا ہے اور کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل نہیں ہوتا مدلل جواب تحریر کریں؟
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟