الجواب وباللہ التوفیق:-اذان کے بعد نماز کی تیاری میں مشغول ہونا مستحب ہے لیکن جن علاقوں میں طویل فاصلہ ہوتا ہو اور ان کا کسی دینوی کام میں مشغول ہونے سے نماز فوت نہ ہوتی ہو اور نہ کوئی خلل واقع ہوتا ہو تو وہ عمل بلا کراہت جائز ہے-
📖 عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سكنت المؤذن بالاولى من صلوة الفجر قام فركع ركعتين حفيفتين قبل صلاة الفجر بعد ان يستيين الفجر ثم اضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه المؤذن للاقامة(بخاري شريف:٨٧/١،رقم: ٦١٨)
📖 عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بلال: يا بلال اذا اذنت فترسل في اذائك واذا اقمت فاحذر واجعل بين اذانك واقامتك قدرها بفرغ الا كل عن اكله والشارب من شربه الخ(ترمذي:٥٤/١،رقم: ١٩٥)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک عورت کے ٣ مہینے کا حمل ہے تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے؟؟
- دھاتوں کے مجسمہ کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں اسی طرح تجارت میں جو پیسہ حاصل ہوا ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟
- دعاء قنوت کی جگہ التحیات پڑھ لیا پھر یاد آیا تو کیا دعاء قنوت لوٹائے گا یا نہیں؟
- ایک شخص نے جلسہ بین السجدتین میں التحیت پڑھ لیا پھر یاد ایا اور لوٹا لیا تو کیا اس کے اوپر سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟
- اگر اولاد اور والدین سب ساتھ رہتے ہو اور اولاد کم ا کما کر اپنے باپ کو دے رہا ہو تو ایسی صورت میں قربانی باپ پر واجب ہے یا اولاد پر اس میں کوئی تفصیل ہے تو وضاحت کریں؟