اذان کے بعد جماعت سے پہلے وضو اور عبارت کے علاوہ کوئی دنیاوی کام کرنا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کوئی کراہت کا درجہ رکھتا ہے یا نہیں جیسا کہ ان علاقوں میں جن میں نماز اور اذان کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے تو بہت سے دین دار لوگ اذان کے بعد کھانا کھانے بیٹھ جاتے ہیں اور پھر نماز باجماعت پڑھتے ہیں اسی طرح اذان کے فورا بعد چار رکعت پڑھ لی پھر کھانا کھانے گئے تو کیا حکم رکھتا ہے اس طرح سنت اور جماعت کے درمیان دیگر عمل کے ذریعے سے فیصلہ پیدا کرنا کراہت کے دائرہ میں آتا ہے یا نہیں جبکہ جماعت کی نماز تکبیر اولی کے ساتھ پڑھی جا رہی ہے وضاحت کے ساتھ جواب تحریر فرمائیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:-اذان کے بعد نماز کی تیاری میں مشغول ہونا مستحب ہے لیکن جن علاقوں میں طویل فاصلہ ہوتا ہو اور ان کا کسی دینوی کام میں مشغول ہونے سے نماز فوت نہ ہوتی ہو اور نہ کوئی خلل واقع ہوتا ہو تو وہ عمل بلا کراہت جائز ہے-

📖 عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سكنت المؤذن بالاولى من صلوة الفجر قام فركع ركعتين حفيفتين قبل صلاة الفجر بعد ان يستيين الفجر ثم اضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه المؤذن للاقامة(بخاري شريف:٨٧/١،رقم: ٦١٨)

📖 عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بلال: يا بلال اذا اذنت فترسل في اذائك واذا اقمت فاحذر واجعل بين اذانك واقامتك قدرها بفرغ الا كل عن اكله والشارب من شربه الخ(ترمذي:٥٤/١،رقم: ١٩٥)