جواب:-اگر کوئی حج کے لیے روپے جمع کرے اور حج کے وقت کے انے سے پہلے ہی روپی ختم یا ہلاک ہو جائے تو ایسی صورت میں دیکھا جائے گا کہ اگر اس پر حج فرض ہوا ہے تو استطاعت ختم ہونے کے بعد اس کے ذمے سے حج کی فرضیت شرعا ساقط نہیں ہوگا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ پوری زندگی حج کی فرضیت کو ادا کرنے کی کوشش کریں پھر اگر ادا نہ ہو پائے تو مرتے وقت حج کرنے کی وصیت کر کے جائیں۔فقط واللہ اعلم

📖 وكذلك لو لم يحج حتى افتقر، تقرَّر وجوبه دَيْنًا في ذمته بالاتفاق، ولا يسقط عنه بالفقر.(الفتاوى الهندية، 1/218، كتاب المناسك، مكتبة زكريا، ديوبند)

📖 ولا يسقط الحجُّ وصدقةُ الفطر بهلاك المال؛ لوجوبهما بقدرةٍ ممكنة، وهي القدرةُ على الزاد والراحلة، وملك النصاب.(رد المحتار على الدر المختار، 9/522–523)

📖 فلو لم يحج حتى مات، وعليه الإيصاء به، وكذلك لو لم يحج حتى افتقر، وجب دَيْنًا في ذمته، ولا يسقط عنه بالفقر.(غنية الناسك، ص 33، إدارة القرآن، کراچی)