امام صاحب نماز پڑھ رہا تھا جب امام رکوع میں چلا گیا ایک شخص اسی حالت میں آکر کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہتے ہی تکبیر رکوع کہے بغیر رکوع میں چلا گیا تو اس کی تحریمہ صحیح ہوئی یا نہیں؟ اسے رکوع پانے والا کہا جائے گا یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:- صورت مسئولہ میں مذکور شخص نے اگر تکبیر تحریمہ کھڑے ہو کر کہی ہے پھر رکوع کی تکبیر کہے بغیر رکوع میں گیا تو اس کی تحریمہ بھی صحیح ہو جائے گی اور مذکور شخص رکوع پانے والا بھی کہلائے گا البتہ رکوع کی تکبیر قصداً چھوڑے تو مکروہ تنزیہی ہوگی ورنہ بلا کراہت نماز درست ہو جائے-
📖 لو ادرك الإمام راكعا لحتى ظهره كبر إن كان إلى القيام أقرب صح الشروع (حاشية الطحطاوي على المراقي الفلاح: باب شروط الصلاة:ص: ٢١٨،اشرفي)
📖 ولو كبر قائما فركع ولم يقف صح(در مختار مع الشامي: ١٣١/٢،زكريا ديوبند)
📖 ولا يصير شارعا بالتكبير إلا في حالة القيام أو فيما هو اقرب إليه من الركوع (هندية:١٢٦/١)
مزید متعلقہ سوالات
- شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور بیوی خود ہاٹ کی مریض ہے تو اس کو اطلاع فوراً دینے میں اندیشہ ہے عدم برداشت کا تو اس صورت کا حکم مطلوب ہے؟
- غیر مسلم کی بیماری پر اس کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے؟
- تراویح کی آٹھ رکعت اور بیس رکعت دلائل کا جواب کیا ہیں؟
- نماز کے بعد دس بار سورۂ اخلاص پڑھنا حدیث سے ثابت ہے؟
- دیوالی میں گوشت، ہڈیاں اور دھلا ہوا پانی استعمال کرنے کی کیا حقیقت ہے؟