جواب:-مرا ہوا جانور چوں کہ ان کے یہاں مال ہے اس لیے مردار جانور غیر مسلم کو مفت میں دینے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ جب ان مردہ جانور دے تو یہ نیت کر لے کہ ہم مردار جانور پھینک رہے ہیں۔قاسمیہ: 103/24 ،فتاوی دارالعلوم
📖 ويضمن المسلمُ خمرَ الذمِّي أو خنزيرَه إذا استهلكه؛ لأنَّ كلًّا منهما مالٌ عندنا، والخنزيرُ عندهم كشاتٍ عندنا.حوالہ: الموسوعة الفقهية الكويتية، ج 3، ص 233۔
📖 ويضمن المسلمُ أو الذميُّ خمرَ الذميِّ أو خنزيرَه إذا استهلكه؛ لأنَّ كلًّا منهما مالٌ عند أهل الذمة، فالخمرُ عندهم كالخلِّ عندنا، والخنزيرُ عندهم كالشاةِ عندنا... (بدائع الصنائع، ج 7، ص 147 وما بعدها)
📖 ويضمن المسلم أو الذمي خمر الذمي أو خنزيره إذا استهلكه؛ لأن كلا منهما مال عند أهل الذمة، فالخمر عندهم كالخل عندنا، والخنزير عندهم كالشاة عندنا... (الفقه الإسلامي وأدلته، في بحث غصب غير المتقوم)
مزید متعلقہ سوالات
- مسواک کے قائم مقام برش استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
- روزے کی حالت میں عورتوں کا لپ اسٹک لگانے کا حکم
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو جواب ہے جواب ہے جواب ہے تو ایسی صورت میں کونسی اور کتنی طلاق واقع ہوگی ایا عرف کے اعتبار سے حکم بدل سکتا ہے اگر بدل سکتا ہے تو دونوں طرح جواب تحریر کریں؟
- ناپاک دودھ کو پاک کرنے کا طریقہ
- امام کے قائم مقام ہونے کے لیے کن چیزوں کا لحاظ کرنا ضروری ہے نیز کتنی تاخیر تک گنجائش ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟