📖 📖 ولو اراد والقربة الاضحية أو غيرها من القرب اجزاهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وحبت على البعض دون البعض وسواء اتفقت جهافت القربة أو اختلفت بان اراد بعضهم الاضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة والقران وهذا قول اصحابنا الثلاثة وقال زفر لا يجوز إلا إذا اتفقت جهافت القربة بان كان الكل بحرمة واحدة.... وكذلك إن اراد بعضهم العقيقة عن ولد له من قبل لان ذلك من جهة القرب.... ولم يذكر ما إذا اراد احدهم الوليمة وهي ضيافة التزوج وينبغي أن يجوز.... وروي عن ابي حنيفة كره الاشتراك عند اختلاف الجمة وروي عنه أنه قال لو كان هذا من نوع واحد لكان أحب الى وهكذا قال ابو يوسف رحمه الله(بدائع صنائع:209/4،زكريا ديوبند ،هندية:473/4،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک عورت کے ٣ مہینے کا حمل ہے تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے؟؟
- دھاتوں کے مجسمہ کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں اسی طرح تجارت میں جو پیسہ حاصل ہوا ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟
- دعاء قنوت کی جگہ التحیات پڑھ لیا پھر یاد آیا تو کیا دعاء قنوت لوٹائے گا یا نہیں؟
- ایک شخص نے جلسہ بین السجدتین میں التحیت پڑھ لیا پھر یاد ایا اور لوٹا لیا تو کیا اس کے اوپر سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟
- اگر اولاد اور والدین سب ساتھ رہتے ہو اور اولاد کم ا کما کر اپنے باپ کو دے رہا ہو تو ایسی صورت میں قربانی باپ پر واجب ہے یا اولاد پر اس میں کوئی تفصیل ہے تو وضاحت کریں؟