باسمہ تعالیٰ الجواب وبالله التوفیق : مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ جوچیز اندورن مسجد گم ہو جائے تو اس کا علان اس شرط کے سا تھ جائز ہے، کہ شور و شغب نہ ہو اور نمازیوں کو خلل نہ ہو، اور اگر بیرون مسجد کم ہوگئی ہے تو حدود مسجد سے باہر دروازہ پر کھڑے ہو کر اعلان کرنا جائز ہے، اندرون مسجد ممنوع ہے۔ (مستفاد: فتاوی محمودیه قدیم ۲۵۳/۱۵، جدید ڈابھیل ۲۱۱/۱۵، قاسمیہ ۴۶۳/۱۸) (۲)اور جنازے کا اعلان بوقت ضرورت مسجد میں کرنا جائز ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ بات ثابت ہے کہ جب نجاشی کی خبر اللہ کے رسول کو پہنچی تو آپ اس وقت مسجد میں موجود تھے اور آپ نے اس کا اعلان کیا

📖 (مستفاد: دار الافتاء بنوری ٹاؤن کراچی فتویٰ نمبر:144205201497) وأما إنشاد الضالة فله صورتان إحداهما إن ضل شيئي في خارج المسجد وينشده في المسجد لاجتماع الناس فهو أقبح وأشنع وأما لو ضل في المسجد فيجوز الإنشاد بلا شغب الخ. (العرف الشذى على هامش الترمذي ،ابواب الصلواة، باب كراهية البيع والشراء انشاد الضالة في المسجد ۸۰/۱)

📖 قال الشيخ وأما إنشاد الضالة فله صورتان : إحداهما : وهي اقبح وأشنع بأن يضل شيئى خارج المسجد ثم ينشده في المسجدلأجل اجتماع الناس، والثانية: أن يضل في المسجد نفسه فينشده فیه وهذا يجوز إذا كان من غير لغط وشغب. (معارف السنن اشرفيه۳۱۳/۳) وقد استدل محمد رحمه الله تعالى في «موطئه» أن مُصَلَّى الجنائز في عهد النبي صلى الله عليه وسلم كان يجنب المسجد. فهذا دليل قوي على أن صلاةالجنازةينبغي أن تكون خارج المسجد، حتى أَنَّ النبي صلى الله عليه وسلملما بلغه نعي النجاشي خرج إلى خارج المسجد ولم يصل فيه". (شرح النووي على مسلم مشکول 369/3) فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

مزید متعلقہ سوالات