📖 (مستفاد: دار الافتاء بنوری ٹاؤن کراچی فتویٰ نمبر:144205201497) وأما إنشاد الضالة فله صورتان إحداهما إن ضل شيئي في خارج المسجد وينشده في المسجد لاجتماع الناس فهو أقبح وأشنع وأما لو ضل في المسجد فيجوز الإنشاد بلا شغب الخ. (العرف الشذى على هامش الترمذي ،ابواب الصلواة، باب كراهية البيع والشراء انشاد الضالة في المسجد ۸۰/۱)
📖 قال الشيخ وأما إنشاد الضالة فله صورتان : إحداهما : وهي اقبح وأشنع بأن يضل شيئى خارج المسجد ثم ينشده في المسجدلأجل اجتماع الناس، والثانية: أن يضل في المسجد نفسه فينشده فیه وهذا يجوز إذا كان من غير لغط وشغب. (معارف السنن اشرفيه۳۱۳/۳) وقد استدل محمد رحمه الله تعالى في «موطئه» أن مُصَلَّى الجنائز في عهد النبي صلى الله عليه وسلم كان يجنب المسجد. فهذا دليل قوي على أن صلاةالجنازةينبغي أن تكون خارج المسجد، حتى أَنَّ النبي صلى الله عليه وسلملما بلغه نعي النجاشي خرج إلى خارج المسجد ولم يصل فيه". (شرح النووي على مسلم مشکول 369/3) فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟