الجواب و باللہ التوفیق:-مسجد کے پیسوں کو مسجد ہی میں خرچ کرنا اور مدرسہ کے پیسوں کو مدرسہ ہی کی ضروریات میں خرچ کرنا لازم اور ضروری ہے دونوں میں سے کسی ایک کا دوسرے کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز نہیں ہوگا لیکن اگر دونوں کا فنڈ ایک ہو اور دونوں ایک دوسرے کے تابع ہو رشید وغیرہ بھی ایک ہی تو پھر جس پر چاہے خرچ کر سکتے ہیں(محمودیہ: ۴۵/۱۵)

📖 وان اختلف احدها بان وقف وقفين على المسجد احدهما على العمارة والاخر بان رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما اوقاف لا يجوز له ذلك وتحته في الشامي أى الصرف المذكور _ قال خير الدين رملي أقول أو من اختلاف الجهة ما اذا كان الوقف منزلين فلا يصرف احدهما للاخر وهي واقعة الفتوى(در مختار مع الشامي:٥٥١/٦،مطلب سين نفله ايقاظ المسجد، كتاب الوقف)

📖 شرط الواقف كنص الشارع أي وجوبه العمل به وفي المفهوم والدلالة الاشياء،(كتاب الوقف، وفن الثاني الفوائ:١٠٦/٢ بحواله محموديه

مزید متعلقہ سوالات