الجواب وباللہ توفیق:- مینڈک 🐸 اگر بڑا ہو تو اس کے اندر دم مسفوح ہوتا ہے لہذا اس کا تیل لگا کر نماز درست نہیں ہوگی لیکن یہ اس صورت میں ہے جبکہ یہ تفصیل معلوم ہو اور اگر تفصیل معلوم نہ ہو تو احتیاط دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔
📖 فان كانت الحية والضفدع عزيمة لها دم سائل فسدت الماء (البحر الرايق: ٣٦٣/١ زكريا)
📖 قلت الضفادع البرى اذا مات في الماء ان كان كبيرا له دم سائل ينجس الماء وان كان صغيرا ليس له دم سائل ليس ينجس الماء (المحيط البرهاني: ٢٧٢/١ ،تاتارخانية:٢٣٦/١)
📖 لان النجس وهو دم مسفوح لا غير ولا دم لهذا هذه الاشياء بدليل ان الحرارة لازمة الدم والبرودة لازمة الماء وهما نقيضان فلو كان لها دم..... اخ،وفي الهندية والضفدع البر والبحر سواء،وصح في السراج والوهاج عند الفراق بينهما لكن محله ما اذا لم يكن في للبري دم واما اذا كان لهذا سائل فانه يفسد على الصحيح
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟