👁دیکھنے والوں کی تعداد:0
اگر کوئی شخص دور دراز شہروں کا سفر کر لے یا اکثر مومالک کا دوراہ کر لے لیکن وہ بغیر کسی نیت کے سفر کر رہا ہو تو ایسی شخص کا شرعا کیا حکم ہے
الجواب:-تو اس صورت میں مسافر نہیں ہے کیونکہ نیت ضروری ہے مسافر کے لیے مسافر اسی وقت سے سمجھا جائے گا کہ جب وہ سفر کے نیت سے گھر سے نکالے،ح تو اس کا حکم وہ اتمام کرے گا قصر نہیں-
📖 ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة ايام حتى يترخص برخصه المسافرين والا لا يترخص ابدا.... (بالفتاوى الهندية:١٩٩/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)
📖 والا فلا قاصدا ولو كافرا ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر....(رد المختار: ٦٠١/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)
📖 لان السفر فعل فلا يوجد بمجرد النية فيشترط قران النية بادنى فعل....(فتاوى قاضيخان: ١٠٣/٧،كتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- شوہر اگر اپنی بیوی سے کہے کہ ’’میں نے تجھ کو چھوڑ دیا‘‘ تو اس سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟موجودہ وزن کے اعتبار سے بھی وضاحت کرنے کے بعد بتائیں کہ ادائیگی کے وقت کس قیمت کا لحاظ ہوگا ایا بوقت نکاح یا بوقت ادا مدلل بیان کریں؟