الجواب:-تو اس صورت میں مسافر نہیں ہے کیونکہ نیت ضروری ہے مسافر کے لیے مسافر اسی وقت سے سمجھا جائے گا کہ جب وہ سفر کے نیت سے گھر سے نکالے،ح تو اس کا حکم وہ اتمام کرے گا قصر نہیں-
📖 ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة ايام حتى يترخص برخصه المسافرين والا لا يترخص ابدا.... (بالفتاوى الهندية:١٩٩/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)
📖 والا فلا قاصدا ولو كافرا ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر....(رد المختار: ٦٠١/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)
📖 لان السفر فعل فلا يوجد بمجرد النية فيشترط قران النية بادنى فعل....(فتاوى قاضيخان: ١٠٣/٧،كتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- اذان-کے-بعد-درود-و-سلام-ثابت-ہے-یا-نہیں
- اگر کوئی شخص اونچی چیز پر یا نیچی چیز پر نماز پڑھے تو اس کے سامنے سے گزرنے کا شرعا کیا حکم ے؟
- نماز کی حالت میں موبائل جیب سے نکال کر گھنٹی بند کرنے کا کیا حکم ہے
- ایک چھوٹی سی نالی ہے اس میں پانی جا رہی ہے اس نالی میں ناپاکی بھی پڑ جاتی ہے تو اس جاری پانی میں ناپاکی گر جانے کے بعد رنگ اور بو اور ذائقہ نہ بدلے پانی کی طبیعت میں صاف ستھرا ہے تو پانی کو پاک سمجھا جائے گا یا نہیں اگر پاک سمجھا جائے گا تو پاکی کی علامت کیا ہے؟ دونوں مسئلے متعدد کتابوں کے حوالہ سے مدلل کر کے واضح فرمائیے؟
- عمرہ کے ارکان کتنے اور کیا کیا ہیں؟