الجواب:-نمازی کے سامنے سے گزرنے والا اونچی جگہ یا نیچی جگہ سے گزرے تو اگر گزرنے والے اور نمازی کے نصف بانصف سے زیادہ کی محاذات آمنے سامنے ہو رہی ہو تو اس کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں ہوگا اور اگر جسم کے آدھے یا اس سے کم حصے کی محاذات ہو رہی ہو تو اس کے سامنے سے گزرنا جائز ہوگا لہذا اگر کوئی بیڈ یا تخت پر نماز پڑھ رہے ہو تو اس کے سامنے سے بلا حائل گزرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ عام طور پر بیڈ یا تخت وغیرہ نصف قامت سے اونچی نہیں ہوتے-

📖 وَمُرُورُ مَارٍّ فِي الصَّحْرَاءِ، أَوْ فِي مَسْجِدٍ كَبِيرٍ، بِمَوْضِعِ سُجُودِهِ، أَوْ مُرُورُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِلَى حَائِطِ الْقِبْلَةِ فِي بَيْتٍ وَمَسْجِدٍ... مُطْلَقًا... أَوْ مُرُورُهُ أَسْفَلَ مِنَ الدُّكَّانِ أَمَامَ الْمُصَلِّي، لَوْ كَانَ يُصَلِّي عَلَيْهَا، بِشَرْطِ مُحَاذَاةِ بَعْضِ أَعْضَاءِ الْمَارِّ بَعْضَ أَعْضَائِهِ، وَكَذَا أَسْطُحٌ وَسُرُرٌ، وَكُلُّ مُرْتَفِعٍ...حوالہ: رد المحتار على الدر المختار، ج ٢، ص ٣٩٨–٣٩٩، كتاب الصلاة، ط: زكريا ديوبند۔

📖 وَيُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْإِمَامُ عَلَى دُكَّانٍ، وَالْقَوْمُ أَسْفَلَ مِنْهُ، وَالْجُمْلَةُ فِيهِ أَنَّهُ لَا يَخْلُو: إِمَّا أَنْ كَانَ الْإِمَامُ عَلَى الدُّكَّانِ، وَالْقَوْمُ أَسْفَلَ مِنْهُ، أَوْ كَانَ الْإِمَامُ أَسْفَلَ مِنْهُ، وَالْقَوْمُ عَلَى الدُّكَّانِ... وَرُوِيَ عَنِ الطَّحَاوِيِّ أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ مَا لَمْ يُجَاوِزِ الْقَامَةَ... حوالہ: بدائع الصنائع، ج ١، ص ٥٠٨، كتاب الصلاة، ط: أشرفية ديوبند۔

📖 ولو كان يصلي في الدكان فإن كانت اعضاء الماء تحاذي اعضاء المصلى يكره والا فلا ولو مر رجلان متحاذيان فالكراهة تلحق الذي يلي المصلى.....(بالفتاوى الهندية:١٦٣/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)