📖 وَمُرُورُ مَارٍّ فِي الصَّحْرَاءِ، أَوْ فِي مَسْجِدٍ كَبِيرٍ، بِمَوْضِعِ سُجُودِهِ، أَوْ مُرُورُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِلَى حَائِطِ الْقِبْلَةِ فِي بَيْتٍ وَمَسْجِدٍ... مُطْلَقًا... أَوْ مُرُورُهُ أَسْفَلَ مِنَ الدُّكَّانِ أَمَامَ الْمُصَلِّي، لَوْ كَانَ يُصَلِّي عَلَيْهَا، بِشَرْطِ مُحَاذَاةِ بَعْضِ أَعْضَاءِ الْمَارِّ بَعْضَ أَعْضَائِهِ، وَكَذَا أَسْطُحٌ وَسُرُرٌ، وَكُلُّ مُرْتَفِعٍ...حوالہ: رد المحتار على الدر المختار، ج ٢، ص ٣٩٨–٣٩٩، كتاب الصلاة، ط: زكريا ديوبند۔
📖 وَيُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْإِمَامُ عَلَى دُكَّانٍ، وَالْقَوْمُ أَسْفَلَ مِنْهُ، وَالْجُمْلَةُ فِيهِ أَنَّهُ لَا يَخْلُو: إِمَّا أَنْ كَانَ الْإِمَامُ عَلَى الدُّكَّانِ، وَالْقَوْمُ أَسْفَلَ مِنْهُ، أَوْ كَانَ الْإِمَامُ أَسْفَلَ مِنْهُ، وَالْقَوْمُ عَلَى الدُّكَّانِ... وَرُوِيَ عَنِ الطَّحَاوِيِّ أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ مَا لَمْ يُجَاوِزِ الْقَامَةَ... حوالہ: بدائع الصنائع، ج ١، ص ٥٠٨، كتاب الصلاة، ط: أشرفية ديوبند۔
📖 ولو كان يصلي في الدكان فإن كانت اعضاء الماء تحاذي اعضاء المصلى يكره والا فلا ولو مر رجلان متحاذيان فالكراهة تلحق الذي يلي المصلى.....(بالفتاوى الهندية:١٦٣/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص دور دراز شہروں کا سفر کر لے یا اکثر مومالک کا دوراہ کر لے لیکن وہ بغیر کسی نیت کے سفر کر رہا ہو تو ایسی شخص کا شرعا کیا حکم ہے
- اذان-کے-بعد-درود-و-سلام-ثابت-ہے-یا-نہیں
- نماز کی حالت میں موبائل جیب سے نکال کر گھنٹی بند کرنے کا کیا حکم ہے
- ایک چھوٹی سی نالی ہے اس میں پانی جا رہی ہے اس نالی میں ناپاکی بھی پڑ جاتی ہے تو اس جاری پانی میں ناپاکی گر جانے کے بعد رنگ اور بو اور ذائقہ نہ بدلے پانی کی طبیعت میں صاف ستھرا ہے تو پانی کو پاک سمجھا جائے گا یا نہیں اگر پاک سمجھا جائے گا تو پاکی کی علامت کیا ہے؟ دونوں مسئلے متعدد کتابوں کے حوالہ سے مدلل کر کے واضح فرمائیے؟
- عمرہ کے ارکان کتنے اور کیا کیا ہیں؟