جواب:-عمرہ کا رکن اعظم بیت اللہ شریف کا طواف ہے اور اس طواف میں کم از کم چار چکر فرض ہے باقہ واجب ہے بعض فقہا نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو بھی عمرہ کا رکن قرار دیا ہے لیکن اکثر فقہا کے نزدیک یہ سعی فرض نہیں بلکہ واجب ہے اور اسی طرح بعض اصحاب کہتے ہیں کہ احرام بھی عمرہ کی رکن ہے لیکن اصح قول کے مطابق یہ رکن نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

📖 فَالْإِحْرَامُ شَرْطٌ، وَمُعْظَمُ الطَّوَافِ رُكْنٌ، وَغَيْرُهَا وَاجِبٌ.حوالہ: غنية الناسك، ج 1، ص 316۔

📖 فَالْإِحْرَامُ شَرْطٌ، وَمُعْظَمُ الطَّوَافِ رُكْنٌ، وَغَيْرُهُمَا وَاجِبٌ، وَالْمُخْتَارُ، وَشَرَحَ بِقَوْلِهِ «هُوَ وَالْمُخْتَارُ» إِلَى مَا فِي التُّحْفَةِ، حَيْثُ جَعَلَ السَّعْيَ رُكْنًا كَالطَّوَافِ، قَالَ فِي شَرْحِ اللُّبَابِ: وَهُوَ غَيْرُ مَشْهُورٍ فِي الْمَذْهَبِ.حوالہ: رد المحتار على الدر المختار، ج ٣، ص ٣٧٦، كتاب الحج، ط: زكريا ديوبند۔

📖 وَأَمَّا الْإِحْرَامُ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: وَهُوَ رُكْنٌ فِي الْعُمْرَةِ، قَالَ: وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَيْسَ بِرُكْنٍ، بَلْ هُوَ شَرْطٌ لِصِحَّةِ أَدَائِهَا، أَمَّا رُكْنُهَا فَهُوَ الطَّوَافُ، وَالرُّكْنُ فِيهِ أَرْبَعَةُ أَشْوَاطٍ، كَمَا تَقَدَّمَ فِي الطَّوَافِ.حوالہ: البحر العميق، ج ٤، ص ٢٠٢١۔