📖 فَالْإِحْرَامُ شَرْطٌ، وَمُعْظَمُ الطَّوَافِ رُكْنٌ، وَغَيْرُهَا وَاجِبٌ.حوالہ: غنية الناسك، ج 1، ص 316۔
📖 فَالْإِحْرَامُ شَرْطٌ، وَمُعْظَمُ الطَّوَافِ رُكْنٌ، وَغَيْرُهُمَا وَاجِبٌ، وَالْمُخْتَارُ، وَشَرَحَ بِقَوْلِهِ «هُوَ وَالْمُخْتَارُ» إِلَى مَا فِي التُّحْفَةِ، حَيْثُ جَعَلَ السَّعْيَ رُكْنًا كَالطَّوَافِ، قَالَ فِي شَرْحِ اللُّبَابِ: وَهُوَ غَيْرُ مَشْهُورٍ فِي الْمَذْهَبِ.حوالہ: رد المحتار على الدر المختار، ج ٣، ص ٣٧٦، كتاب الحج، ط: زكريا ديوبند۔
📖 وَأَمَّا الْإِحْرَامُ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: وَهُوَ رُكْنٌ فِي الْعُمْرَةِ، قَالَ: وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَيْسَ بِرُكْنٍ، بَلْ هُوَ شَرْطٌ لِصِحَّةِ أَدَائِهَا، أَمَّا رُكْنُهَا فَهُوَ الطَّوَافُ، وَالرُّكْنُ فِيهِ أَرْبَعَةُ أَشْوَاطٍ، كَمَا تَقَدَّمَ فِي الطَّوَافِ.حوالہ: البحر العميق، ج ٤، ص ٢٠٢١۔
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص دور دراز شہروں کا سفر کر لے یا اکثر مومالک کا دوراہ کر لے لیکن وہ بغیر کسی نیت کے سفر کر رہا ہو تو ایسی شخص کا شرعا کیا حکم ہے
- اذان-کے-بعد-درود-و-سلام-ثابت-ہے-یا-نہیں
- اگر کوئی شخص اونچی چیز پر یا نیچی چیز پر نماز پڑھے تو اس کے سامنے سے گزرنے کا شرعا کیا حکم ے؟
- نماز کی حالت میں موبائل جیب سے نکال کر گھنٹی بند کرنے کا کیا حکم ہے
- ایک چھوٹی سی نالی ہے اس میں پانی جا رہی ہے اس نالی میں ناپاکی بھی پڑ جاتی ہے تو اس جاری پانی میں ناپاکی گر جانے کے بعد رنگ اور بو اور ذائقہ نہ بدلے پانی کی طبیعت میں صاف ستھرا ہے تو پانی کو پاک سمجھا جائے گا یا نہیں اگر پاک سمجھا جائے گا تو پاکی کی علامت کیا ہے؟ دونوں مسئلے متعدد کتابوں کے حوالہ سے مدلل کر کے واضح فرمائیے؟