کیا میت کا پوسٹ مارٹم، میڈیکل تعلیم کے لیے انسانی لاش کی تشریح اور میت کے اعضاء کو طبی تحقیق کے لیے محفوظ رکھنا شرعاً جائز ہے؟
انسانی جسم کو اللہ تعالیٰ نے عزت و تکریم عطا فرمائی ہے، اور یہ تکریم موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا
(سورۃ الإسراء: 70)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيِّتًا مِثْلُ كَسْرِهِ حَيًّا
یعنی مؤمن کے مرنے کے بعد اس کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے اس کی زندگی میں ہڈی توڑنا۔
(سنن أبي داود، كتاب الجنائز؛ سنن ابن ماجہ، كتاب الجنائز)
اسی طرح احادیث میں مردوں کی بے حرمتی اور ان کے جسم کو مثلہ کرنے سے ممانعت آئی ہے۔
لہٰذا اصل حکم یہ ہے کہ میت کے جسم کی بے حرمتی، کاٹ پھاڑ اور تشریح کرنا جائز نہیں۔ چنانچہ محض موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے بھی عام حالات میں پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں دی جائے گی، بلکہ موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے دوسرے ممکنہ ذرائع اور شواہد سے کام لیا جائے گا۔
اگر کسی حادثہ یا قتل کے معاملے میں سرکاری حکام اپنے قانونی اختیار کے تحت پوسٹ مارٹم کرواتے ہیں اور اہلِ خانہ اسے روکنے پر قادر نہیں ہوتے، تو ایسی صورت میں میت کے اولیاء پر گناہ نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ عمل ان کی رضامندی سے نہیں بلکہ حکومتی اختیار کے تحت انجام دیا گیا ہے۔
اسی طرح میڈیکل کی تعلیم کے لیے انسانی لاش کی تشریح کرنا اصلًا جائز نہیں۔ میڈیکل طلبہ کو چاہیے کہ حتی الامکان اس عملی تشریح میں شرکت سے بچیں اور متبادل ذرائع اختیار کریں۔ موجودہ دور میں انسانی جسم کی ساخت سمجھنے کے لیے مختلف مصنوعی ماڈلز، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور دیگر تعلیمی ذرائع بھی موجود ہیں، اگرچہ وہ مکمل طور پر حقیقی انسانی جسم کا بدل نہیں ہیں۔
البتہ زندہ مریض پر جائز طبی آپریشن اور علاج کے عملی مراحل میں شرکت کرکے طبی مہارت حاصل کرنا جائز ہے۔
اسی طرح میت کے اعضاء یا جسم کے کسی حصے کو محض طبی تحقیق، تعلیم یا علاج کے مقصد سے محفوظ رکھنا بھی اصلًا جائز نہیں، کیونکہ انسانی اعضاء کی بے حرمتی اور ان سے غیر ضروری انتفاع شرعاً ممنوع ہے۔ فقہائے کرام نے انسانی اعضاء سے انتفاع کے بارے میں لکھا ہے:
الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز؛ قيل: للنجاسة، وقيل: للكرامة، وهو الصحيح
یعنی: انسان کے اعضاء سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں؛ بعض نے اس کی وجہ نجاست بیان کی ہے، اور بعض نے انسانی کرامت کو وجہ قرار دیا ہے، اور یہی قول صحیح ہے۔
(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، 5/409، ط: زکریا، دیوبند)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا
یعنی مردے کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ شخص کی ہڈی توڑنا۔
(رواه مالك وأبو داود وابن ماجه)
ملا علی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
قَالَ الطِّيبِيُّ: إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّهُ لَا يُهَانُ مَيْتًا، كَمَا لَا يُهَانُ حَيًّا
یعنی علامہ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میت کی بھی بے حرمتی نہ کی جائے، جیسے زندہ شخص کی بے حرمتی نہیں کی جاتی۔
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج: 3، ص: 1226)
لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ میت کا بلا ضرورت پوسٹ مارٹم، میڈیکل تعلیم کے لیے لاش کی تشریح، اور میت کے اعضاء یا بافتوں کو محفوظ کرکے رکھنا اصلًا شرعاً جائز نہیں۔ البتہ اگر کسی معاملے میں حکومت اپنے قانونی اختیار کے تحت پوسٹ مارٹم کرائے اور اہلِ خانہ اسے روکنے سے عاجز ہوں تو ان پر اس کا گناہ نہیں ہوگا۔
📖 الانتفاعُ بأجزاءِ الآدميِّ لم يَجُزْ؛ قيلَ: للنجاسةِ، وقيلَ: للكرامةِ، وهو الصحيحُ.الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، ج: 5، ص: 409، ط: زکریا، دیوبند
مزید متعلقہ سوالات
- خیار شرط کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بغیر وطن واپس آ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- نئی دلی اسٹیشن میں انگریزوں کے زمانے سے ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس میں باضابطہ امام و مؤذن ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ اس مسجد کو مسمار کر کے اس کے بدلے میں مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کر کے دینا چاہتی ہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی ؟
- اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟