جواب:-ایصالِ ثواب کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت، صدقہ و خیرات، نفل نماز یا روزہ وغیرہ کا ثواب میت کو پہنچانا جائز ہے۔ تاہم ایصالِ ثواب کے لیے باقاعدہ طور پر لوگوں، خصوصاً قرآن پڑھنے والوں یا مدرسے کے طلبہ کو جمع کرنا اور ختمِ قرآن کے بعد انہیں معاوضہ کے طور پر پیسے دینا یا کھانا کھلانا درست نہیں، بلکہ یہ عمل مکروہ اور قابلِ اجتناب ہے۔ لہٰذا ایسے پروگرام میں مدرسے کے طلبہ کو بلانا یا مدرسہ انتظامیہ کی طرف سے طلبہ کو بھیجنا مناسب نہیں؛ کیونکہ اس میں قرآن خوانی کے بدلے معاوضہ لینے دینے کا مفاسد بھی ہے اور طلبہ کی تعلیم کا حرج بھی ہوتا ہے۔

📖 وَيُكْرَهُ اتِّخَاذُ الطَّعَامِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَالثَّالِثِ ... وَاتِّخَاذُ الدَّعْوَةِ وَجَمْعُ الصُّلَحَاءِ وَالْقُرَّاءِ لِلْخَتْمِ أَوْ لِقِرَاءَةِ سُورَةِ الْأَنْعَامِ أَوِ الْإِخْلَاصِ، وَالْحَاصِلُ أَنَّ اتِّخَاذَ الطَّعَامِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ لِأَجْلِ الْأَكْلِ يُكْرَهُ --// رد المحتار: 3/148، باب صلاة الجنائز، ط: زکریا، دیوبند

📖 إِيصَالُ ثَوَابٍ كے لِئِے قُرْآنِ پَاك خَتْم كَرَا كَر بَطَوْرِ مُعَاوَضَہ كھَانَا كھِلَانَا دُرُسْت نَهِیں، اِس سَے ثَوَاب نَهِیں هُوتَا بَلْكِ گُنَاه هُوتَا هَے --// فتاویٰ محمودیہ: 3/85، باب البدعات والرسوم، ط: فاروقیہ