جواب:-اگر عورت حج کرنے پر قادر ہو اور تمام اسباب موجود ہوں البتہ محرم اس کے ساتھ نہ ہو تو اس عورت پر حج کرنا فرض تو ہے لیکن اس وقت تک ادا کرنا واجب نہیں ہوگا جب تک کسی محرم کو ساتھ نہ پائیں اور اس صورت میں وہ محرم کی انتظار کریں اگر مرنے سے قبل یعنی مرنے کے وقت تک محرم نہ ملے تو مرنے کے وقت کسی کو اپنا حج کرنے کی وصیت کر کے جائیں اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر عورت پر حج فرض ہے اور کسی محرم کو نہ پائے تو وہ معتمہ اور دیندار عورتوں کے ساتھ حج پر جائے گی جبکہ احناف کے نزدیک کسی بھی حالت میں بھی عورت بغیر محرم کے سفر نہیں کر سکتی جیسا کہ بہت سارے احادیث شریف میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سفر کرے گا عورت تین دن کا اس کے ساتھ محرم ہو ایسا ہی اور حدیث میں وارد ہے کہ بغیر محرم کے عورت کو گھر سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔فقط واللہ اعلم

📖 والمحرم في حق المراه شرط شابه كانت او عجوزا اذا كانت بينهما وبين مكة مسيرة ثلاثة ايام وقال الشافي رحمه الله يجوز لها عن تخرج فيه رفقت معها نساء ثقاب واختلافوا في قول المحروم شرط الاجوب الآخر //--تاتارخانية/٤٣٤/٢) زكريا ديوبند

📖 منها المحرم للمراة شابة كانت او عجوزا اذا كانت وبين مكة مسيرة ثلاثة ايام--(الهنديه-(٢١٩/١) مكتبة الاتحاد ديوبند

مزید متعلقہ سوالات