جواب:-اگر کسی شخص پر حج فرض ہو گیا تھا اور اس نے بلا تاخیر حج کا سفر شروع کیا اور اتفاقا دوران حج وفات پا جائے تو اس کا ذمہ سے ساقط ہو جائے گا اس لیے کہ اللہ تعالی اس کی ذمہ عبادت اتنا ہی رکھا تھا تو اس کی طرف سے وصیت واجب نہیں ہے اور اگر حج فرض کئی سال پہلے ہوا تھا لیکن اس نے نہ تو حج کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی سفر کے لیے نکلا تھا یہاں تک کہ وفات کا وقت اگیا تو اس پر حج بدل کی وصیت لازم ہے (جو اس کے متروکہ تہائی مال سے پوری کی جائے گی) فقط واللہ اعلم

📖 فلو لم يحج حتى مات فعليه الايصاءبه هذا لم يحج ولم يخرج الى الحج (فتح القدير ٤٢٣/٢ كتاب الحج)

📖 رجل وافق مع النبي صلى الله عليه وسلم يعرفه اذ وقع عن راحلته فوقصته او قال فاقعثه فقال النبي صلى الله عليه وسلم اغسلوه بماء وصدر وكفنوه في ثوبين او قال ثوبيه ولا تحنطوه ولا تخمروا راسه فان الله يبعثه يوم القيامة يلبي (صحيح بخاري-١٨٤٩)

مزید متعلقہ سوالات