الجواب:-اس صورت میں طلاق کی الفاظ کو بگاڑنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے کیونکہ الفاظ طلاق کو بگاڑ تلفظ کرنے کو شریعت کی اصطلاح میں تحریف اور تصحیف کہا جاتا ہے اور ایک کرام نے تحریف اور تصحیف شدہ الفاظ کو صریح اور صحیح الفاظ کے مثل مان لیے ہیں لہذا تصحیف شدہ الفاظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اگر تلفظ کیا تو جیسے طلاغ،تلاغ،طلاک،تلاک وغیرہ۔
📖 ويقع بها اي بهذه الالفاظ وما بمعناها من الصريح و يدل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك او ط ل ق.....(رد المختار: ٤٥٩/٤،كتاب الطلاق باب الصريح ،زكريا ديوبند)
📖 رجل قال لامراته: ترا تلاق هاهنا خمسة الفاظ: تلاق وتلاغ وطلاك وطلاك وطلاك عن الشيخ الامام الخليل ابي..... انه يقع وان تعمد وقصد ان لا يقع....(الهنديه: ٤٢٤/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)
📖 واما المسحف فهو خمسة الفاظ:تلاق وتلاغ .......وطلاغ وطلاك وتلاك،قال لا يقع به الا واحدة وان نوى اكثر من ذلك.....(فتح القدير: ٧/٤ ،كتاب الطلاق، بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟