جواب:-اللہ حافظ زیارت حج کے دوسرا رکن ہے اسے ادا کیے بغیر حج مکمل نہیں ہوگا اور شریعت میں اس کا کوئی بدل نہیں لہذا جو شخص طواف زیارت نہیں کرے گا اس طرح کے ایام نحر شروع ہونے کے بعد کوئی طواف نہیں کیا تو جب تک خود جا کر طواف زیارت نہ کر لے اس کا طواف ادا نہیں ہوگا اور آخری عمر تک اس کی ادائیگی ذمہ میں قرض رہے گی اور جب تک طواف زیارت نہ کر لے اس وقت تک بیوی سے صحبت بوس و کنار اس کے لیے حرام ہے ہاں البتہ ایام نحر شروع ہونے کے بعد کوئی دوسرا طواف کیا تو یہ طواف طواف زیارت کے قائم مقام ہو جائے گا۔فقط واللہ اعلم ۔

📖 وحل النساء اي : بعد الركن منه وهو منه .... ولو لم يطف اصلا لا يحل له النساء وان طلع ومضت سنون باجماع وكذا في الهنديه(شامي: ٦١٤/٣ طواف الزيارة اشرفيه ديوبند )

📖 لو ترك طواف الزيارة كله او اكثر فهو محرم ابدا في حق النساء حتى يطوف فعليه حتما ان يعود لذلك الاحرام ويطوفه(غنية الناسك:٣٧٣)

مزید متعلقہ سوالات