جواب:-عقیقہ کے اندر لڑکا اور لڑکی کے حصوں میں فرق ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کی جانب سے دو بکرے اور لڑکی کی جانب سے ایک بکرا اور عقیقہ کے جانور میں مذکر اور مونث میں کوئی فرق نہیں ہے (اگر کوئی شخص لڑکے کے لیے دو بکریوں پر قادر نہ ہو تو ایک بکرا سے بھی عقیقہ کر سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔فقد واللہ اعلم

📖 ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرهم عن الغلام شاتان مكافاتان وعن الحجارة شاة --//جامع الترمذي،٤٧٤/١ مكتبة التحاد ديوبند

📖 عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة--//مشكوة المصابيح،٣٦٢/١

📖 من احب ان ينسك عن واحده فلينسك عنه عن الغلام شاتان مكافاتان وعن الجارية شاة--//سنن النسائي حديث نمبر ٤٢١٧ كتاب العقيقة

مزید متعلقہ سوالات