جواب:-عقیقہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بچے کی جانب سے پوری دو بکرے اور بچی کی جانب سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا (سنن ترمذی:١٥١٣،سنن ابن ماجه:٣١٦٣) میں موجود ہے بچے کی پیدائش کے ساتھ ہوئے دن اس کا عقیقہ کرنا بہتر ہے لڑکا ہو تو دو بکرے یا دو بکریاں اور اگر لڑکی ہو تو ایک بکرا ذبح کرنا ہے یہی مسنون ہے اور اسی دن بچے کا نام رکھا جائے۔فقط واللہ اعلم

📖 قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الغلام مرتهن بعقيقة يذبح عنه يوم السابع ويسمي ويلحق راسه--//ترمزي ٢٧٨/١ ابواب الاضاحي

📖 عن اهل العلم يستحبون ان يذبح عن الغلام العقيقه يوم السابع فان لم يتهبا يوم السابع فيقوم الرابع عشرفان لم يتهبا عق عنه يوم احدى وعشرين وقالوا لا يجزي في العقيقة من الشاة الا ما يجزي في الاضحية --//ترمزي،٢٧٨/١ باب من العقيقة مكتبة قديمي

📖 عن سمرة بن جندب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كل غلام رهين بعقيقة تذبح عنه يوم السابعه ويحلق راسه وسمي-٣٧٢/٤ كتاب العقيقة مكتبة موسة

مزید متعلقہ سوالات