الجواب و باللہ توفیق:- اگر بھینس قریب الولادت ہو تو اس کی قربانی مکرہ ہے اور اگر نہ ہو تو اس کی قربانی بلا کراہت جائز ہے ،اگر قربانی کے بعد بھینس کی پیٹ سے مرا ہوا بچہ نکلے تو اس کو کھانا جائز نہیں البتہ اگر زندہ بچہ نکلے تو اس کا گوشت کھایا جائے لیکن اگر ایام قربانی کے اندر ذبح نہ کیا جائے تو اسے صدقہ کرنا لازم ہے – فقط و الله اعلم–//}(1) بحر الرائق ،ج:٨،ص:٣١٢ زکریا –//الہندیہ ج:٥ ص:٣٣١ زکریا –//بداءع، ج:٤ ص:١٥٩ زکریا

📖 1.(ويكره ذبح الشاة أذا تقارب ولادتها لأنه يضيع ما فى بطنها--(بحر الرائق ،ج:٨،ص:٣١٢ زکريا - –

📖 . الجنين أذا خرج بعد ذبح أمه ان خرج حيا فذكي يحل,وان مات قبل الذبح لا يؤكل وان خرج ميتا فان لم يكن كامل الخلق لا يؤكل ايضا فى قولهم جميعا--//بداءع، ج:٤ ص:١٥٩ زكريا2.

مزید متعلقہ سوالات