الجواب:-بیع مکروہ وہ ایسی بیع ہے جو اپنی اصل اور وصف کے اعتبار سے مشروع ہو لیکن اس کے ساتھ کوئی دوسری خارجی سبب کی وجہ سے ناپسندیدہ ہو جیسے- اذان جمعہ کے وقت خرید و فروخت کرنا اور اس کا حکم یہ ہے کہ یہ بیع منعقد ہو جاتی ہے اور کراہت کے ساتھ جائز ہے البتہ اس سے اجتناب کرنا چاہیے-
📖 البيع المكروه: هو الصحيح باصله ووصفه دون مجاوره كالبيع بعد اذان الجمعة بحيث يفوت السعي الى صلاة الجمعة.....(التعريفات الفقهية:١٣٥،باب الباء، مكتبة تهانوية ديوبند)
📖 وكره بيع الحاضر للبادي وهذا اذا كان اهل البلدة في فحط وهو ان يبيع من اهل البلد رغبة في الثمن الغالي فيكره.....(بالفتاوى الهندية:١٩٨/٣،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)
📖 والمكروه: مشروع باصله ووصفه لكن جاوره شيء اخر من هي عنه.....(الباب في شرح الكتاب: ٢١١/١،كتاب البيوع،اشرفية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟