سوال:- بیع مکروہ کی تعریف اور اس کا حکم تحریر کریں؟
الجواب:-بیع مکروہ وہ ایسی بیع ہے جو اپنی اصل اور وصف کے اعتبار سے مشروع ہو لیکن اس کے ساتھ کوئی دوسری خارجی سبب کی وجہ سے ناپسندیدہ ہو جیسے- اذان جمعہ کے وقت خرید و فروخت کرنا اور اس کا حکم یہ ہے کہ یہ بیع منعقد ہو جاتی ہے اور کراہت کے ساتھ جائز ہے البتہ اس سے اجتناب کرنا چاہیے-
📖 البيع المكروه: هو الصحيح باصله ووصفه دون مجاوره كالبيع بعد اذان الجمعة بحيث يفوت السعي الى صلاة الجمعة.....(التعريفات الفقهية:١٣٥،باب الباء، مكتبة تهانوية ديوبند)
📖 وكره بيع الحاضر للبادي وهذا اذا كان اهل البلدة في فحط وهو ان يبيع من اهل البلد رغبة في الثمن الغالي فيكره.....(بالفتاوى الهندية:١٩٨/٣،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)
📖 والمكروه: مشروع باصله ووصفه لكن جاوره شيء اخر من هي عنه.....(الباب في شرح الكتاب: ٢١١/١،كتاب البيوع،اشرفية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- نکاح کے لیے اسلام قبول کرنے والے شخص کا نکاح صحیح ہوگا؟
- کیا خودکشی کرنے والے کی روح معلق رہتی ہے؟
- قعدۂ اخیرہ چھوڑ کر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے نماز صحیح ہوگی؟
- ایک شخص پر ٥ رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۵ رمضان میں وہ دو لاکھ کا مالک ہے اس کے بعد اس کے پاس مال میں اور اضافہ ہوا تقریباً دس لاکھ کا مالک ہوگیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس اضافی رقم کی زکوۃ کب نکالی جائے گی ؟
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟