الجواب و باللہ التوفیق :-قربانی کے سلسلے میں قربانی کے آخری ایام کا اعتبار ہوتا ہے لہذا اس قاعدہ کی رو سے غرىب شخص کے قربانی کرنے کے بعد ایام اضحىہ میں مالدار ہونے کی صورت میں دوسری قربانی لازم ہونی چاہیے بر اسی بنا صاحب بداءع وغىرہ نے اجوب قربانی کے قول کو صحیح قرار دیا ہے لیکن صاحب فتاویٰ بزازیہ اور صاحب فتاویٰ تاتارخانیہ وعىرہ نے متاخرین احناف کے حوالے سے عدم وجوب قربانی کا قول نقل کیا ہے اور اسی کو راجح قرار دیا ہے اس لئے مذکورہ غرىب شخص کے لئے اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے لہٰذا اگر وہ دبارہ قربانی نہ کرے تو وہ ترک واجب کی وجہ سے گناہ گار نہ ہوگا -اور مسافر ایام قربانی میں مقیم ہو جائے تو اس پر قربانی کرنا لازم ہے اور اگر مقیم مسافر ہو جائے تو قربانی کرنا لازم نہیں -فقط و الله اعلم–//الفتاویٰ التاتارخانیہ ج:١٧،ص:٤٥٩ زکریا –//رد المختار ج:٩ ص:٤٥٨ زکریا –//الہندیہ ج:٥ ص:٣٣٧ زکریا

مزید متعلقہ سوالات