جواب:-حج بدل میں اصل یہ ہے کہ معمور کا حج میقاتی ہو یعنی وہ میقات سے حج کے احرام باندھے اور یہ بات حج افراد اور حج قران میں تو پائی جاتی ہے لیکن حج تمتع میں نہیں پائی جاتی اسی لیے بہت سے کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ حج بدل میں افراد یا قران ہی کا ہونا چاہیے حج تمتع سے حج بدل معتبر نہ ہوگا البتہ حج قران کے لیے آمر کی طرف سے اجازت ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم

📖 قالوا قيل بالقران لان في التمتع يسير مخالفا بالاجماع وانما العمرة عن الامر لانه امر بالانفاق في سفر الحج وقد اتفق في سفر العمرة لانه امر بحجه ميقاتيه وقد اتى بحجة مكية(البحر العميق: ٣١٢٣/٤)

📖 قال الشيخ ابو بكر محمد بن الفضل رحمه الله تعالى اذا امر غيره بأن يحج عنه ينبغي ان يفوض الامر الى المامور فيقول: حج عني بهذا كيف شئت ان شئت حجة؟ وان شئت حجة وعمرة ،وان شئت قرانا والباقي في المال مني لك وصية كيلا يضيق الامر على الحاج ولا يجب عليه رد ما فصل الى الورثة(قاضيخان:٣٠٧/١)

مزید متعلقہ سوالات