سوال:-حج بدل کسے کہتے ہیں اور اس کے شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:-عاقل بالغ اور مکلف ادمی کا کسی شرعی معذور شخص کی جانب سے اس کے حکم سے ارکان حج ادا کرنے کو حج بدل کہتے ہیں اور اس کے شرعی حکم یہ ہے کہ حج بدل کا پورا خرچ امیر پر لازم ہے اور حج بدل کرنے والا امیر کے گھر سے یا اس کے وطن سے حج کے لیے سفر حج شروع کرے گا اور امیر کی طرف سے حج کی نیت کرے گا۔فقط واللہ اعلم۔
📖 الحج الفرض تقبل النية عند العجز فقط لكن بشرط دوام العجز إلى الموت ويشرط النية الحج عنه ويشرط الامر(در المختار مع شامي:١٤/٤ زكريا ديوبند)
📖 فقال بعضهم: ان أصل يقع عن المخرج هي وبذلك تشهد الأخبار الوارده في الناب منها حديث الخصمية المتقدم فانها قالت: افاحج عنه وقال صلى الله عليه وسلم :نعم. (بحر العميق: ٢٢٥٢/٤-٢٢٥٣ المكتبه المكيه)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر لڑکا لڑکی زنا کی حد تک پہنچ جائے اور گواہ وہاں پر موجود نہ ہوں تو کیا لڑکا لڑکی کا آپس میں قبول کرنے سے نکاح ہو جاےگا
- اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے امام اور مقتدیوں کی مغفرت ہوتی ہے؟
- بچوں کی دینی اور دنیوی تعلیم میں زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟
- رات بھر نہ سونے کی قسم کھا کر غیر اختیاری نیند آنے پر کفارہ لازم ہوگا؟
- التحیات بھول کر سورۂ فاتحہ پڑھنے پر سجدۂ سہو لازم ہوگا؟