جواب:-کرن اصطلاح میں حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ کر ایک ساتھ حج اور عمرہ کرنے کو کہتے ہیں،اور اس کے افعال یہ ہے کہ حج کے مہنو میں میقات پر پہنچ کر یا اس سے پہلے غسل و غیرت سے فارغ ہو کر احرام کے کپڑے پہن کر دو رکعت نماز پڑھ کر سلام کے بعد سر کھولنا اور قبلہ رخ بیٹھ کر دل میں حج اور عمرہ دونوں کے احرام کی نیت کرنا اور زبان سے کہنا “اللهم اني اريد الحج والعمرة الآخر..”جب مکہ مکرمہ مجھے تو اول عمرہ کا طواف سائی وغیرہ کر کے عمرہ پوری کرے پھر مکہ میں ہی قیام کرے اس کے بعد اٹھیں تاریخ کو منی جائے اور نویں کو عرفات جائے، منی عرفات اور مزدلفہ کے احکام میں قران اور افراد میں کچھ فرق نہیں ہے لہذا سب افعال اسی طرح کرے جس طرح مفرد کرتا ہے پھر دسویں تاریخ کو منی ا کر جمرہ اخری کی رانی کرے پھر قران کے شکریہ میں قربانی کرے پھر سر کے بال منڈائے یا کٹوائے اور طواف زیارت کریں آخر میں طواف وداع کرے-فقط واللہ اعلم

📖 والقران لغة: الجمع بين شيئين وشرعا: اي رفع صوته بالتلبية بحجة وعمرة معا حقيقة او حكما بان يحرم بالعمره اولا ثم بالحج قبل اي توفى لها اربعة اصواط او عكسه....... والمراد به النية اذا النية بقلبه تكفي كالصلاة. بعد الصلاه ة: اللهم اني اريد الحج والعمرة الآخر.. ويستحب تقدم العمرة في النكر لتقدمها في الفعل،طواف للعمره اولا وجوبا حتى لو نواه للحجي لا يقع الا لها (دره مختار مع رد مختار: ٥٥٣/٣ كتاب الحج-زكريا ديوبند)

📖 القران وهو ان يجمع بين احرام العمرة والحج ....... وهو ان يهل الافاق بهما معا في الميقات او قبله وهو الافضل... استحباب تقديم العمرة على الحج في النية والتربية طواف القدومي للقران والرمل فيه السعي بعده ثم يتوفى لقدومه ويضطبع فيه ايضا ويرمل... وحكم من طافين العمره والحج ثم سعي سعين(فتاوى هنديه:٣٠١/١ كتاب المناسك اشرفيه ديوبند) وكذا في غنية الناسك:٣٢٤/١-٣٢٨ كتاب المناسك اشرفيه ديوبند )

مزید متعلقہ سوالات