جواب:-رمی کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب حجاز اکرام مینا پہنچیں گے تو پہلے اور دوسرے جمرہ کو چھوڑ کر سیدھا تیسرے جمرہ یعنی جمرہ عقبہ کے پاس جا کر اس سے الگ الگ سات کنکریاں ماری جائے ١٠ ذی الحجہ کو رمي كا مسنون وقت طلوع افتاب سے لے کر زوال تک ہیں پھر زوال سے مغرب تک مباح وقت ہے گیارویں اربارویں ذوالحجہ کو تینوں جمرات کو ترتیب سے الگ الگ سات کنکریاں ماری جائے ان دونوں میں رامی کرنے کا مسنون وقت زوال افتاب سے غروب افتاب تک ہے اور غروب افتاب سے صبح صادق تک مکروہ وقت ہے افضل یہ ہے کہ رمی کرتے وقت اس طرح کھڑا ہو کر منی کی وادی دائے جانب اور مکہ معظمہ پائے جانب ہو اور جمرہ سامنے ہو اور رامی دائیں ہاتھ سے کرنا مسنون ہے کنکری کو انگوٹھیوں اور شہادت کی انگلی سے پکڑ کر ماننا مستحب ہے رامی کرنے والا جمرات سے پانچ ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو اسے کم فاصلہ مکروہ ہے اور ہر کنکری مرد وقت تکبیر کہے یا کوئی تسبیح پڑھے۔
📖 ثم ياتي ثمرة العقبة قبل الزوال فيرميها بسبع حسيات في بطن الوادي من اسفل الى اعلى مثل حصيات الخذف ويكبر مع كل حصاة... (الهنديه: ٢٩٥/١ كتاب المناسك، باب الخامس،اشرفيه ديوبند)
📖 ثم ياتي ثمرة العقبة فيرمى من بطن الوادي سبعا ويكبر مع كل حساة ولا يقدم بعدها في المشهور(قاضيخان:١٨١/٧ كتاب الحج، اشرفيه ديوبند)
📖 وبعد الزوال الثاني النحر رمي الجمار الثلاث ويبدا استنانا بما يلي مسجد الخيف ثم بما يليه الوسطى ثم بالعقبة سبعا سبعا...(شامي: ٥٤٠/٣-٥٤١،كتاب الحج زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟