جو تمباکو یا سگریٹ یقینی طور پر یا غالب گمان کے مطابق صحت کے لیے نقصان دہ ہوں، ان کا استعمال شرعاً ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے۔ لیکن اگر صرف نقصان کا اندیشہ ہو یا اس کا نقصان آہستہ آہستہ ظاہر ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں اس کا استعمال مکروہِ تنزیہی ہوگا۔ تاہم اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔ حوالہ:

📖 وَإِذَا كَانَ فِي اسْتِعْمَالِهِ ضَرَرٌ غَالِبٌ أَوْ مُتَيَقَّنٌ عَلَى الْبَدَنِ فَيُكْرَهُ تَحْرِيمًا، وَإِنْ كَانَ الضَّرَرُ مَظْنُونًا أَوْ يَحْصُلُ بِالتَّدْرِيجِ فَيُكْرَهُ تَنْزِيهًا.فتاویٰ شامی، ج: ۶، ص: ۴۵۹، ط: دارالفکر

📖 إِذَا كَانَ فِي اسْتِعْمَالِ التَّبْغِ ضَرَرٌ مُتَيَقَّنٌ أَوْ غَالِبُ الظَّنِّ فَاسْتِعْمَالُهُ غَيْرُ جَائِزٍ، وَإِنْ كَانَ الضَّرَرُ مَحْتَمَلًا أَوْ يَكُونُ عَلَى سَبِيلِ التَّدْرِيجِ فَهُوَ مَكْرُوهٌ تَنْزِيهًا، وَالتَّرْكُ أَفْضَلُ.فتاویٰ رشیدیہ، ص: ۵۵۲، ط: ادارہ صدائے دیوبند