الجواب:-وقت سے پہلے اذان دینا شرعا درست نہیں ہے اور اگر کوئی شخص وقت سے قبل اذان دے دے تو شرعا درست ہے یا نہیں اس سلسلے میں اختلاف ہے چنانچہ نماز فجر کے علاوہ باقی چار فرض نمازوں کے باری میں تو اتفاق ہے کہ وقت سے پہلے اذان دینے کافی نہیں ہے بلکہ لوٹانا پڑے گا البتہ فجر کے بارے میں حضرات امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقت سے پہلے اذان دے تو کافی ہے دوبارہ اذان دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن حضرت امام ابو حنیفہ و محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کافی نہیں ہے بلکہ وقت ہونے پر دوبارہ اذان دینا پڑے گا اور اس پر فتوی ہے-

📖 **فَيُعَادُ أَذَانٌ وَقَعَ بَعْضُهُ قَبْلَهُ... فِي أَنَّهَا تُعَادُ إِذَا وَقَعَتْ قَبْلَ الْوَقْتِ، أَمَّا بَعْدَهُ فَلَا تُعَادُ مَا لَمْ يَبْطُلْ... قَوْلُهُ: خِلَافًا لِلثَّانِي، هَذَا رَاجِعٌ إِلَى الْأَذَانِ فَقَطْ، فَإِنَّ أَبَا يُوسُفَ يُجَوِّزُ الْأَذَانَ قَبْلَ الْفَجْرِ بَعْدَ نِصْفِ اللَّيْلِ...** **حوالہ:** رد المحتار على الدر المختار (شامي)، ج 2، ص 50، كتاب الصلاة، باب الأذان، ط: زكريا، ديوبند۔

📖 **تَقْدِيمُ الْأَذَانِ عَلَى الْوَقْتِ فِي غَيْرِ الصُّبْحِ لَا يَجُوزُ اتِّفَاقًا، وَكَذَا فِي الصُّبْحِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ، وَإِنْ قُدِّمَ يُعَادُ فِي الْوَقْتِ... إِنَّ الْإِقَامَةَ قَبْلَ الْوَقْتِ لَا تَجُوزُ، كَذَا فِي «الْمُحِيطِ».** **حوالہ:** الفتاوى الهندية، ج 1، ص 110، كتاب الصلاة، الباب الثاني في الأذان، ط: زكريا، ديوبند۔

📖 **وَفِي الْخَانِيَةِ: إِذَا أَذَّنَ قَبْلَ الْوَقْتِ، يُكْرَهُ الْأَذَانُ وَالْإِقَامَةُ، وَلَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةٍ قَبْلَ الْوَقْتِ. وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ: يُؤَذَّنُ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فِي النِّصْفِ الْآخِرِ مِنَ اللَّيْلِ. وَفِي الْحُجَّةِ: إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، أَيُعِيدُ الْأَذَانَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَعِنْدَهُمَا لَا يُعِيدُ، وَالْفَتْوَى عَلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ...****حوالہ:** الفتاوى التاتارخانية، ج 2، ص 158، كتاب الصلاة، باب الأذان، ط: زكريا، ديوبند۔

مزید متعلقہ سوالات