الجواب:-صورت مسؤلہ میں خرید و فروخت کرنا شرعا درست ہے کیونکہ آج کا عام دستور یہی ہے لیکن اگر گاہک تولنے کی شرط لگائے تو پھر تولے بغیر خرید و فروخت درست نہیں ہے اور اگر خریدنے کے بعد سامان خراب نکلے تو مشتری کو اختیار ہے چاہے تو پورے ثمن کے بدلے میں سامان کو لے لے اور چاہے تو بیع کو فسخ کر دے-
📖 إذا اطَّلع المشتري على عيبٍ في المبيع، فهو بالخيار؛ إن شاء أخذه بجميع الثمن، وإن شاء ردَّه...(اللباب في شرح الكتاب، 1/208، كتاب البيوع، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 إذا اطَّلع المشتري على عيبٍ في المبيع، فهو بالخيار؛ إن شاء أخذه بجميع الثمن، وإن شاء ردَّه؛ لأن مطلق العقد يقتضي وصفَ السلامة، فعند فواته يتخيَّر...(الهداية، 5/65، كتاب البيوع، مكتبة البشري، باكستان)
📖 وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا...(سورة البقرة، الآية: 275) ويجوز بإناءٍ بعينه لا يُعرف مقداره، وبوزنِ حجرٍ بعينه لا يُعرف مقداره؛ لأن الجهالة لا تُفضي إلى المنازعة...(الهداية، 5/11، كتاب البيوع، مكتبة البشري، باكستان)