جواب وباللہ التوفیق:- خطبہ جمعہ زبانی اور دیکھ کر پڑھنا دونوں طرح جائز ہے البتہ زبانی پڑھنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ خطبہ کی حیثیت وعظ نصیحت کی ہوتی ہے اس لیے زبانی پڑھنا زیادہ مناسب ہے
📖 الخطبة في الصلاح هي الكلام المؤلف الذي بتضمن وعظا وبلاغا على الصفة المقخوصة(موسوعة : ١٧٦/١٩)
📖 وأما سنتها خمس عشرة........ ورابعها قال ابو يوسف في الجوامع النعوز في نفسه قبل الخطبة....... البراءة. البحر الرائق:٢٥٨/٢, اشرفية)
📖 ويبدا بالتعوذ سرا وفي الثاني قبل الخطبة الاولى بالتعوذ سرا ثم بحمد لله تعالى والثنا عليه (شامي زكريا: ٢١/٣)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بچہ کا عقیقہ والے دن نام رکھا گیا اب تین سال بعد نام کے معنی اچھے نہ ہونے کی وجہ سے اس نام کو تبدیل کیا جارہا ہے، تو کیا تبدیل کرسکتے ہیں؟؟
- بعض روایات کے پیش نظر حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مشروع معلوم نہیں ہوتی اور امام صاحب کا موقف کیا ہے اور صحیح مسئلہ کیا ہے کہ عقیقہ مسنون ہے یا نہیں؟ اس پر دلائل اور خصوص کیا ہے؟ کتنے دنوں کے بعد عقیقہ کرنا مسنون ہے اس بات کو بھی واضح کر دے؟
- جب خطیب خطبہ دینے کے لیے ممبر پر چڑھ جائے تو حاضرین اور نمازیوں کو سلام کرنا ثابت ہے یا نہیں اور اس سلسلے میں روایت تحریر فرمائے اور اصل حکم شرعی بھی تحریر فرمائیں کم سے کم تین حدیث نقل فرمائے؟
- جعلی مارک سیٹ بنوا کر سرکاری نوکری حاصل کرنا کیسا ہے اگر ایسی نوکری حاصل ہو گئی ہے تو اس نوکری کی تنخواہ جائز ہے یا نہیں؟ حلال ہے یا نہیں؟
- مؤذن اذان میں حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح میں دائیں بائیں مڑتے ہے تو کیا اقامت میں بھی جمعتین کے وقت دائیں بائیں منے کا حکم ہے اور کس معہ کا حکم ہے؟