ایک عالم صاحب نے کہا ہے کہ جمعہ کا خطبہ دیکھ کر پڑھنا مسنون ہے یہ کہاں تک درست ہے زبانی پڑھنا یا دیکھ کر پڑھنا کون سا مسنون ہے یا افضل ہے؟خطبہ شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت ہے تو کم سے کم تین عربی کتابوں کے حوالے سے جواب تحریر فرمائیں؟
جواب وباللہ التوفیق:- خطبہ جمعہ زبانی اور دیکھ کر پڑھنا دونوں طرح جائز ہے البتہ زبانی پڑھنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ خطبہ کی حیثیت وعظ نصیحت کی ہوتی ہے اس لیے زبانی پڑھنا زیادہ مناسب ہے
📖 الخطبة في الصلاح هي الكلام المؤلف الذي بتضمن وعظا وبلاغا على الصفة المقخوصة(موسوعة : ١٧٦/١٩)
📖 وأما سنتها خمس عشرة........ ورابعها قال ابو يوسف في الجوامع النعوز في نفسه قبل الخطبة....... البراءة. البحر الرائق:٢٥٨/٢, اشرفية)
📖 ويبدا بالتعوذ سرا وفي الثاني قبل الخطبة الاولى بالتعوذ سرا ثم بحمد لله تعالى والثنا عليه (شامي زكريا: ٢١/٣)
مزید متعلقہ سوالات
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟
- رکوع یا سجدہ میں دعائے ماثورہ کے بجائے قرآن پڑھنے کا حکم کیا ہے؟
- اگر لڑکا لڑکی زنا کی حد تک پہنچ جائے اور گواہ وہاں پر موجود نہ ہوں تو کیا لڑکا لڑکی کا آپس میں قبول کرنے سے نکاح ہو جاےگا
- اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے امام اور مقتدیوں کی مغفرت ہوتی ہے؟
- بچوں کی دینی اور دنیوی تعلیم میں زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟