الجواب:-جمعہ کا حکم جمہور کے نزدیک ہجرت کے بعد نازل ہوا ہے جیسا کہ فتح الباری میں ہے لیکن راجح قول کے مطابق ہجرت سے پہلے جمعہ کا حکم نازل ہوا ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رہتے ہوئے کفار قریش کی وجہ سے جمعہ نہ کر سکے جیسا کہ لامع الدراری میں ہے-
📖 📖 وذلك ان الجمعة فرضت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو بمكة قبل الهجرة كما احرجه الطبراني عن ابن عباس رضي الله عنه فلم يتمكن عن اقامتها هنالك من اهل الكفار.(لامع الدراري:١/٢)
📖 واختلف في وقت فرضية الجمعة فالاكثر على أنها فرضت بالمدينة وهو مقتضي ما تقدم ان فرضيتها الآية المذكورة وهي مدينة وقال الشيخ ابو حامد: فرضت بمكه وهو غريب(فتح البارى:٤١٤/٢)
📖 قلت: لأن الجمعة فرضت بمكة قبل نزول سورة الجمعة على قاله الشيخ أبو حامد والعلامة الثبوطي في الاتفاق "ورسالته" وهو الاصح خلافا للحافظ ابن حجر ولم يتمكن النبي صلى الله عليه وسلم من اقامتما هناك فصلي اول جمعة بالمدينة حين فدم(بذل المجهوده:٦٢)
مزید متعلقہ سوالات
- مستعمل پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟
- طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا شرعا کیسا ہے نیز اگر کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو یہ دو رکعت ادا کرنا اسی وقت شرعا درست ہے یا نہیں یا ضروری ہے اگر درست اور ضروری ہو تو کیوں جبکہ عصر کی نماز پڑھنا منع ہے کوئی نماز اگر درست نہ ہو تو کیوں ؟ مدلل بیان کریں؟
- نصاب کے بقدر سونا یا چاندی ہو اور زکوۃ کی رقم نہ ہو تو کیا کرے
- لڑکی والوں کا رخصتی کے وقت دوست و احباب کو کھانا کھلانے کا حکم
- جمعہ کے جواز کے لیے تین آدمیوں کے علاوہ شہر کی شرط بھی ہے یا نہیں