الجواب:-ادھار بیع کے اندر ثمن کی ادائیگی کی مدت معلوم ہونا ضروری ہے خواہ صراحتا معلوم ہو یا عرفا معلوم ہو لہذا صورت مسئولہ میں بیع درست ہے اگر متعاقدین کے درمیان مدت ادائیگی معلوم ہو ورنہ درست نہیں ہے-
📖 📖 ومن باع بثمن حال ثم اجله اجلا معلوما او مجهولا متقاربا كالحصاد والدياس.... لو باع موجلا ولم يقل الى رمضان لا يكون مؤبدا بل يكون ثلاثة ايام عند بعض ويفتى بأن يتاجل الى شهر.....(البحر الرائق: ٤٦٧/٥،كتاب البيع، المكتبة التهانوية ديوبند)
📖 📖 وصفه بثمن حاله وهو الاصل ومؤجل الى معلوم لئلا يقضي.... ولو باع مؤجلا صرف لشهر به يفتى....(رد المختار: ٥٢/٧-٥٣،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)
📖 وفي المنح: لو باع مؤجلا انصرف الى شهر لأنه المعهود في الشرع في السلم....(مجمع الانهر: ١٣/٣،كتاب البيوع، فقهية الامة ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص نماز کے اندر کوئی فرض یا کوئی واجب یا کوئی سنت چھوڑ دے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو سے کام چل جائے گا یا ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے اگر الگ ہے تو ہر ایک کو بیان کریں؟
- غیر کی زمین میں اس غیر کی اجازت کے بغیر طاقت کے بل بونے پر مسجد بنا لی گئی اس میں باضابطہ نماز ہونے لگے جب تک اس غیر کو اس زمین کا معاوضہ ادا نہ کیا جائے تو نماز مکروہ ہوتی رہے گی معاوضہ ادا کرنے کے بعد کراہت ختم ہو جائے گی تو سوال یہ ہے کہ معاوضہ ادا کرنے سے پہلے وہ شرعی مسجد کہاں لی جائے گی یا نہیں؟
- اگر کسی شخص کے پاس دو گاڑیاں موجود ہو تو ان گاڑیوں پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟
- جمعہ کا حکم ہجرت سے پہلے نازل ہوا ہے یا ہجرت کے بعد دلیل سے جواب لکھے اگر جمعہ کا حکم ہجرت سے پہلے نازل ہوا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کیوں قائم نہیں فرمایا؟
- ایک صاحب نے فائننس پر مشین خریدنا چاہتا ہے تو حوالہ کی شکل کیا ہوگی؟