الجواب وباللہ توفیق:-نماز کے اعتبار سے مسجد شرعی نہیں لہذا نماز مکروہ ہوگی حائضہ اور نفساء کے اعتبار سے مسجد شرعی ہے لہذا ان کا گزرنا ناجائز ہے، اسی طرح مسجد کو مسمار کرنے کے اعتبار سے کہ یہ مسجد شرعی ہے-یا اس کو مسمار کر دیا جائے گا
📖 📖 قال الله تعالى: ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه وسعى في خرابها....(سورة البقرة: ايت:١١٤)
📖 وقال أبو يوسف هو مسجد ابداً الى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ما له الى مسجد آخر سواء كان يصلون فيه أولا وهو الفتاوى(البحر الرائق: ٢٥١/٥،كتاب الوقف،كوئٹ)
📖 لا يجوز لاحد من المسلمين اخذ مال ما أحد بغير سبب شرعي (البحر الرائق: ٤١/٥،کوئٹہ)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص کسی دوکان سے ادھار سامان خریدے اور قیمت ادا کرنے کی مدت طے نہ کرے بلکہ یوں کہے کہ بعد میں دونگا تو ایسی صورت میں شرعا یہ درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟
- اگر کوئی شخص نماز کے اندر کوئی فرض یا کوئی واجب یا کوئی سنت چھوڑ دے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو سے کام چل جائے گا یا ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے اگر الگ ہے تو ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر کسی شخص کے پاس دو گاڑیاں موجود ہو تو ان گاڑیوں پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟
- جمعہ کا حکم ہجرت سے پہلے نازل ہوا ہے یا ہجرت کے بعد دلیل سے جواب لکھے اگر جمعہ کا حکم ہجرت سے پہلے نازل ہوا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کیوں قائم نہیں فرمایا؟
- ایک صاحب نے فائننس پر مشین خریدنا چاہتا ہے تو حوالہ کی شکل کیا ہوگی؟