الجواب و باللہ توفیق:- مسکرا سوال دو چیزوں سے متعلق ہے سمن کی نقد ادائیگی اور سمند تاخیر سے ادا کرنے کے متعلق ہیں اور دونوں کا حکم جداگانہ ہے یعنی ثمن نقد ادا کرنے کی صورت میں سمن پہلے اور مبیع بعد میں اور تاخیر کی صورت میں بائع کا مبیع کو حوالہ کرنے سے پہلے سامان وصول کرنے کا حق ساقط ہو جاتا ہے اصل حکم تو یہی ہے لیکن جب باہمی رضا مندی سے یہ طے ہو گیا کہ پوری رقم ادا کرنے کے بعد مشتری کو بیع پر قبضہ رہے گا اس سے پہلے پہلے بائع دو کے رکھنے کا حق ہے یہ شرط مقتدی عقد کے خلاف نہیں ہے اور اس طرح کی شرط لگانا تعمل ناس میں جاری بھی ہے اس لیے شرط کے مطابق بائع کو مبیع رکھنے کا حق حاصل ہے مکمل ممکن ادا ہونے تک لہذا جو شرط طے ہوئی ہے جانب ان کو اسی شرط کی پابندی کرنا لازم ہے۔

📖 قال اصحابنا وللبايع حق حبس المبيع لا استفاء الثمن ان كان الثمن حلال وان كان الثمن موءجلا لم يكن له حق الحبس،ولو كان بعد الثمن قلا وبعضه مؤجلا فله حبسه حتى يستوفى الثمن الحال ولو بقي له من الثمن شيء قليل كان له حبس جميع المبيعي (تاتارخانية:٢٤٣/٨, رقم: ١١٧٧٧, زكريا)

مزید متعلقہ سوالات