الجواب وباللہ التوفیق:-نکاح کے موقع پر لڑکی سے اجازت لینے کے لیے اگر محرم وکیل بن کر جاتا ہے تو وہ بغیر پردے کے اجازت لے سکتا ہے لیکن اگر کوئی محرم دستیاب نہ ہو تو بوجہ مجبوری غیر محروم بھی وکیل بن کر اجازت لے سکتا ہے لیکن پردے کو ملحوظ رکھتے ہوئے لہذا وکیل کے لیے صرف محرم ہونا شرط نہیں؛ نیز ٹیلیفون کے ذریعہ سے بھی وکیل بنانا جائز ہے لیکن ٹیلیفون اسی طرح ویڈیو کیمرہ میں وکیل بنائے بغیر نکاح کرنا درست نہیں ہے اگرچہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو کیونکہ انعقاد نکاح کے اتحاد مجلس شرط ہے جو مذکورہ دونوں صورتوں میں منقود ہے-(المستفاد:۵۷۵/۱۱،محمودیہ، قاسمیہ:۱۱۷/۱۳،نوازل:۷۷/۸)والنظر إلى الاجنبيات حرام(هندية جديد: ٣٨٢/٥،زكريا)

📖 قال الله تعالى: وإذا سالتموهن متاعا فاسالوهن من وراء حجاب (سورة الاحزاب:ابن:٥٣)

📖 ويصح التوكيل بالنكاح وان لم يحضره الشهود امرأة وكلت رجلا بان يزوجها من نفسه فقال زوجت فلانة من نفسي يجوز وان لم تقل قبلت (هندية قديم:٢٩٤/١،الباب السادس في الوكالة بالنكاح جديد:٣٩١/١)

مزید متعلقہ سوالات