الجواب بعون الملک الوھاب ١- واضح رہے کہ ہر وہ پیسہ جو محنت و مشقت سے کمایا جائے وہ حلال، اور اس کا استعمال جائز ہے، خواہ اس کو کمانے والا مرد ہو یا عورت ہو- ٢- اگر کسی جگہ عورتوں کی ملازمت، یا کوئی بھی غیر شرعی کام عام ہو تو یہ اس کے جواز کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتی- شریعت مطہرہ کا اپنا قانون ہے کہ عورت بلا ضرورتِ شدیدہ ملازمت نہ کرے، اگر وہ کرتی ہے تو یہ ناجائز ہے، فقط والله تعالیٰ أعلم
📖 📖 عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ. (سنن نسائی/ کتاب البیوع/ کذا فی الترمذی)
مزید متعلقہ سوالات
- مستعمل پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟
- طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا شرعا کیسا ہے نیز اگر کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو یہ دو رکعت ادا کرنا اسی وقت شرعا درست ہے یا نہیں یا ضروری ہے اگر درست اور ضروری ہو تو کیوں جبکہ عصر کی نماز پڑھنا منع ہے کوئی نماز اگر درست نہ ہو تو کیوں ؟ مدلل بیان کریں؟
- نصاب کے بقدر سونا یا چاندی ہو اور زکوۃ کی رقم نہ ہو تو کیا کرے
- لڑکی والوں کا رخصتی کے وقت دوست و احباب کو کھانا کھلانے کا حکم
- جمعہ کے جواز کے لیے تین آدمیوں کے علاوہ شہر کی شرط بھی ہے یا نہیں