الجواب بعون الملک الوھاب ١- واضح رہے کہ ہر وہ پیسہ جو محنت و مشقت سے کمایا جائے وہ حلال، اور اس کا استعمال جائز ہے، خواہ اس کو کمانے والا مرد ہو یا عورت ہو- ٢- اگر کسی جگہ عورتوں کی ملازمت، یا کوئی بھی غیر شرعی کام عام ہو تو یہ اس کے جواز کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتی- شریعت مطہرہ کا اپنا قانون ہے کہ عورت بلا ضرورتِ شدیدہ ملازمت نہ کرے، اگر وہ کرتی ہے تو یہ ناجائز ہے، فقط والله تعالیٰ أعلم

📖 📖 عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ. (سنن نسائی/ کتاب البیوع/ کذا فی الترمذی)

مزید متعلقہ سوالات