الجواب وبالله التوفيق: بلا ضرورت خواہ مخواہ حیلہ کرنا ممنوع ہے، اس لیے کہ فدیہ کے مصارف متعین ہیں، حیلہ کے بعد جو اصل مستحقین ہیں وہ عملاً محروم ہوجاتے ہیں، اس لیے حیلہ کی صورت انتہائی مجبوری میں اختیار کرنی چاہیے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص مستحق ہی نہیں ہے تو اس کے لیے خواہ مخواہ حیلہ نہیں کرنا چاہیے۔
📖 📖 مستفاد از: (حاشيه فتاوى دار العلوم ديوبند، ١٩٩/٦، ط: مكتبه دار العلوم ديوبند) (فتاوى فلاحيه، ٤٧٤/٣، ط: گجرات)
📖 📖 دلیل: (١): أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة. (الفتاوى الهندية/كتاب الحيل/الفصل الأول، ٤٤٣/٦، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- جونک کا تیل ایک گرام سے زائد لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟
- ایک باوضو شخص کو مچھر نے کاٹا اور خون چوس لیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا یا باقی رہے گا تحقیق کے ساتھ جواب تحریر فرمائیں؟
- کسی نے یہ نظر مانی کہ جب میں دہلی جاؤں گا میرے اوپر دس روزہ رکھنا واجب ہوگا تو سوال یہ ہے کہ جب وہ دہلی جائے گا تو یہ روزہ رکھنا اس کے اوپر واجب ہوگا یا نہیں اگر واجب ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کسی بھی شکل ہے ایک دفعہ تین روزہ رکھنے کے بعد دوبارہ جب جائے تو چھٹکارا ہو جائے؟
- اعتکاف کی قسمیں فرض، واجب ،سنت ،مستحب ان چاروں قسم ہے یا نہیں بحوالہ تحریر کریں؟
- اعتکاف نظر اور اعتکاف سنت میں کیا فرق ہے واضح فرمائیے؟ کیا نظر کے اعتکاف کے لیے روزہ رکھنا شرط ہے یا نہیں؟ اگر روزہ رکھنا شرط ہے تو حضرت عمر کا مسجد حرام میں اعتکاف کی نظر ماننا یعنی ایک رات کی نظر مانی تھی حضور نے اس کو پورا کرنے کا حکم فرمایا کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے روزہ بھی رکھا تھا؟