الجواب وباللہ توفیق:- اعتکاف کی عند الجمہور دو قسمیں ہیں1. واجب یعنی نظر کے اعتکاف, 2. مستحب یعنی کسی بھی وقت میں جب اعتکاف کرنا ہے ،لیکن اخلاق نے مسنون اعتکاف کا اضافہ فرمایا ہے اور مسنون اعتکاف رمضان کے اخری عشرہ میں کیا جاتا ہے جس کو سنت کنایہ بھی کہا جاتا ہے۔
📖 وهو اي الاعتكاف ثلاثه اقسام واجب بالنظر وسنة مؤكدة في العشر الخير من رمضان اي سنه كفاية مستحب في غيره من الازمنة وهو يعني غير المؤكدة(شامي زكريا :٤٣٠/٣)
📖 وهو سنه واحده ويجب بالنزر ... والحق انه على ثلاثه اقسمي واجب وهو منذور وسنة مؤكدة وهو اعتقاف العشر الاخير من رمضان ومستحب وهو في غيره من الايام كما في التبين (مجموع الانهر: ٣٧٦/١-٣٧٧)
📖 ينقسم الاعتكاف الى واجب ومستحب عند الجمهور وزاد حنفية المسنون (الموسوعة الفقهية:٢٠٥/٥)
مزید متعلقہ سوالات
- عیب کی تعریف مع مثال تحریر کریں؟
- اگر کسی جانور کے کان یا کسی اور جگہ ادھار کارڈ لگا ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے یا نہیں؟
- اگر کوئی شخص کسی دوکان سے ادھار سامان خریدے اور قیمت ادا کرنے کی مدت طے نہ کرے بلکہ یوں کہے کہ بعد میں دونگا تو ایسی صورت میں شرعا یہ درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟
- اگر کوئی شخص نماز کے اندر کوئی فرض یا کوئی واجب یا کوئی سنت چھوڑ دے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو سے کام چل جائے گا یا ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے اگر الگ ہے تو ہر ایک کو بیان کریں؟
- غیر کی زمین میں اس غیر کی اجازت کے بغیر طاقت کے بل بونے پر مسجد بنا لی گئی اس میں باضابطہ نماز ہونے لگے جب تک اس غیر کو اس زمین کا معاوضہ ادا نہ کیا جائے تو نماز مکروہ ہوتی رہے گی معاوضہ ادا کرنے کے بعد کراہت ختم ہو جائے گی تو سوال یہ ہے کہ معاوضہ ادا کرنے سے پہلے وہ شرعی مسجد کہاں لی جائے گی یا نہیں؟