الجواب وباللہ التوفیق:- اعتکاف نظر اور اعتکاف مسنون میں فرق یہ ہے کہ اعتکاف مسنون رمضان کے آخر عشرہ میں ہوتا ہے اور اعتکاف نظر کبھی بھی ہو سکتا ہے حنفیہ کے نزدیک اعتکاف کے لیے روزہ رکھنا شرط ہے جبکہ حضرت امام شافعی کے نزدیک روزہ شرط نہیں ہے وہ حدیث عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے استدلال کرتے ہیں کہ اس میں لیلہ کا لفظ ہے اور رات میں روزہ نہیں ہوتا ، احناف کی جانب سے حدیث عمر رضی اللہ تعالی عنہ کئیں جواب دیتے ہیں ان میں سے ایک جواب یہ ہے کہ جو علامہ ابن الہام نے فتح القدیر میں دیا ہے کہ لیلہ سے مراد یوم ہے جیسا کہ مسلم اور بخاری میں ایک روایت میں یوما کا لفظ بھی موجود ہے-

📖 عن ابن عمر رضي الله عنه أن عمر سال النبي صلى الله عليه وسلم قال :كنت نذرت في الجاهلية ان اعتكف ليلة في المسجد الحرام قال أوف بنظرك(بخاري: ٢٧٢/١، ترمذي:٢٨١/١)

📖 ان عمر بن الخطاب سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالجعرانة بعد ان رجع من الطائف فقال يا رسول الله اني نذرت في الجاهلية ان يوما في يوما في المسجد الحرام (مسلم :٥٠/٢،بخاري:-٤٤٥/١٧)

📖 قال الشافعية: لا يجب الصوم في الاعتكاف وتمسكوا بحديث الباب بان فيه اعتكاف ا ليالي ولا صوم في الليالي اقول لا يجب الصوم على مختار صاحب البحر في الاعتكاف النفلى ويقال من جانب الشيخ ابن همام أن في رواية البخاري ينزل اليوم ايضا في هذا الباب (ترمذي:٢٨٢/١)