الجواب و بالله التوفيق صورت مسئولہ میں طلاق کے مسئلہ میں عدالت کا فیصلہ معتبر ہونے اور نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں ۔۔ پہلی صورت ۔۔ اگر کسی مسلمان عادل جج نے حدود شرع کی رعایت کرتے ہوئے طلاق کا فیصلہ بصورت مجبوری کیا تو اُس کا یہ فیصلہ طلاق صحیح ہوگا ۔ ورنہ نہیں ۔اور سوال نامہ سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ کوئی مجبوری نہیں تھی ۔ لہذا اگر مسلم جج نے بھی فیصلہ کیا تو معتبر نہیں ۔۔ دوسری صورت ۔ اگر فیصلہ کرنے والا غیر مسلم تھا تو ایسی صورت میں اُس کا فیصلہ معتبر نہ ہوگا اور طلاق واقع نہ ہوگی ۔۔ ۔ لہٰذا اب شوہر سے طلاق یا شرعی تفریق حاصل کئے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا درست نہیں ۔۔ (مستفاد از: ایضاح النوادر، ١٥١/٢)

📖 ولن يجعل الله للكفرين على المؤمنين سبيلا. (سورة النساء، الآية: ١٤١)

📖 لم ينفذ حكم الكافر على المسلم، وينفذ للمسلم على الذمي. (شامي/كتاب القضاء/باب التحكيم، ١٢٦/٨، ط: زكريا ديوبند)

📖 لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره. (هندية/كتاب النكاح، ٢٨٠/١، ط: زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات