حضرت نوح (علیہ) اور حضرت لوط (علیہ) کی بیوی نے ایمان لایا تھا یا نہیں؟قران کریم میں ان کی مذمت بیان کی گئی اگر ایمن نہیں لایا تھا تو دونوں پیغمبروں کے نکاح میں کیسے باقی رہے؟
جواب وباللہ توفیق:- حضرت نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی بیوی ایمان نہیں لائی تھی اور قران کریم میں دونوں کی مذمت بیان کی گئی ہے اور میں بغیر ایمان کے ان کے نکاح میں تھی کیونکہ ابتدا اسلام میں مسلمان کا نکاح کافر سے جائز تھا ان پر مفارقت واجب نہ تھی پھر اسلام نے اسے منسوخ کر دیا چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ایت کریمہ نازل ہوئی تھی وافر "ولا تمسكوا بعضهم الكوافير (الایة ممتحنة :١٠) حضرت شفیع صاحب رحمت اللہ علیہ نے معارف القران٤١٤/٨ میں آیات کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرمائیں کہ مراد اس سے مشرکہ عورت ہے کیونکہ کافر کتابیہ سے نکاح کی اجازت قران کریم میں مخصوص ہے مراد ایت کی یہ ہے کہ اب تک جو مسلمان اور مشرکوں کے درمیان مناکحت کی اجازت تھی وہ اب ختم ہو گئی اب کسی مسلمان کا نکاح مشرک اور سے جائز نہیں اور جو نکاح پہلے ہو چکے ہیں وہ بھی ختم ہو چکے اب کسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا حلال نہیں۔
📖 ذكر ان خيانه امرأة نوح وزوجها انها كانت كافرة(تفسير الطبري(١٦٠/١٢)
📖 وكانت تقول للناس انه مجنون وان خيانة امرأة لوط ان لوطا كانا لير الضعيف وتدل عليه (تفسير الطبرى١٦٠/١٢)
📖 مخانتهما اي في الايمان لم يوافقهما على الايمان ولا صدقهما في الرسالة وفلم ذلك كله شيئا ولا رجع عنهما محزورا(تفسير ابن كثير: ٢٦٢/٦)
مزید متعلقہ سوالات
- حادثے میں جسم کے ٹکڑے ہوجانے پر میت کو غسل کیسے دیا جائے؟
- ایک شخص کا معمول ٢٠ رجب کو زکوٰۃ نکالنے کا ہے، اس نے ٢٠ تاریخ کو حساب لگا لیا تھا، ابھی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی ٢٦ رجب تک تک اس کے پاس مزید مال آگیا تو اس مزید مال کی زکوٰۃ بھی اِسی سال ادا کرنی ہوگی؟
- کیا عورت پیتل کی انگوٹھی پہن سکتی ہے؟
- اکیڈمی کے تقابلی مقابلے میں 100 روپے جمع کرانے کا حکم کیا ہے؟
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟