الجواب باللہ التوفیق :
مذکورہ صورت میں لڑکی کے اوپر صرف طلاق کی عدت لازم ہوگی الگ سے کوئی عدت نہیں ٬ اور اگر لڑکا لڑکی آپسی رضامندی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو تین ماہواری گزر جانے کے بعد نکاح کرنے کی گنجائش ہے دوران عدت نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔
(مستفاد:کتاب المسائل ۳۸۶/۵)
📖 فظهرأن الحامل من الزنا لا عدة عليه أصلاً. (البحر الرائق ٢٢٩/٤ زكريا)
📖 لا تجب العدة على الزانية، وهذا قول أبي حنيفة ومحمد رحمه الله. ا ا(لفتاوى الهندية ٥٢٦/١ زكريا، شامي ٥٠٣/٣ کراچی)
📖 فلا عدة على المزني بها في رأى الحنفية والشافعية، خلافا للمالكية والحنابلة. (الفقه الإسلامي وأدلته / الفصل الرابع في العدة والاستبراء ٥٩١/٧)
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟