👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

ایک لڑکی کو طلاق ہو گئ تھی ابھی وہ عدت میں تھی اور ایک حیض ھی مکمل ہوا تھا اس دوران اس کی ملاقات کیسی شخص سے ہوئی جس کے ساتھ اس نے زنا کر لیا جس کے نتیجے میں وہ لڑکی حاملہ ہو گئی اب وہ لڑکا بضد ہے کہ میں تجھ سے سے ہی نکاح کروں گا وہ نکاح کرنے پر بضد ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایک اس لڑکی پر عدت کا کیا حکم ہوگا اور نکاح کی کیا شکل ہوگی

الجواب باللہ التوفیق : مذکورہ صورت میں لڑکی کے اوپر صرف طلاق کی عدت لازم ہوگی الگ سے کوئی عدت نہیں ٬ اور اگر لڑکا لڑکی آپسی رضامندی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو تین ماہواری گزر جانے کے بعد نکاح کرنے کی گنجائش ہے دوران عدت نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔ (مستفاد:کتاب المسائل ۳۸۶/۵)

📖 فظهرأن الحامل من الزنا لا عدة عليه أصلاً. (البحر الرائق ٢٢٩/٤ زكريا)

📖 لا تجب العدة على الزانية، وهذا قول أبي حنيفة ومحمد رحمه الله. ا ا(لفتاوى الهندية ٥٢٦/١ زكريا، شامي ٥٠٣/٣ کراچی)

📖 فلا عدة على المزني بها في رأى الحنفية والشافعية، خلافا للمالكية والحنابلة. (الفقه الإسلامي وأدلته / الفصل الرابع في العدة والاستبراء ٥٩١/٧)

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں