الجواب وبالله التوفيق: واضح رہے کہ مطلقہ ثلاثہ کا ارتداد اختیار کرنا شوہر اول کیلئے حلت کا سبب نہیں بنے گا حلت کے ثابت ہونے کیلئے شخص آخر سے نکاح شرعی کے ذریعہ جماع کا پایا جانا ضروری ہے۔
📖 ولو ارتدت المطلقة ثلاثا ولحقت بدار الحرب ثم استرقها أو طلق زوجته الأمة ثنتين ثم ملكها ففي هاتين لايحل له الوطء إلا بعد زوج آخر كذا في النهر الفائق. (الفتاوى الهندية/كتاب الطلاق/الباب السادس/فصل: فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ٥٠٧/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟